سابق قطری وزیراعظم اسرائیل سے تعلقات کے حامی، 'وارسا کانفرنس پرتنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطر کے سابق وزیراعظم الشیخ حمد بن جاسم نے پولینڈ کے دارالحکومت 'وارسا' میں ہونے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کےقیام کی حمایت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق'ٹویٹر' پر پوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں سابق قطری وزیراعظم نے 'وارسا کانفرنس' کو شادی کی تقریب کے مترادف قرار دیا۔ انہوں‌ نے لکھاکہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے مخالف نہیں بلکہ یہ تعلقات فلسطینیوں کے حقوق کی قیمت پرنہیں ہونے چاہئیں۔

خیال رہے کہ قطر نے پہلے وارسا کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان نے اپنے ملک کی طرف سے اس کی نمائندگی کی۔ قطری ذرائع ابلاغ نے وارسا کانفرنس کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور نہ ہی اس کی کوریج کی گئی۔

الشیخ حمد بن جاسم نے کہا کہ 'وارسا' کانفرنس شادی کی تقریب کی طرح ہے میں پہلے سے پیغام نکاح دے دیا گیا تھا۔ اس میں شرکت کرنے والے یا تو مہمان تھے یا شادی کے فریقین تھے۔ انہوں‌ نے ٹویٹ کی کہ میں یہ واضح کردوں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام میں‌ کوئی قباحت نہیں‌ مگر یہ تعلقات فلسطینیوں کے حقوق کی قیمت پر نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں دیر پا اور مثالی امن کے قیام کا واحد راستہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں