.

شام اور ترکی کے درمیان قابل اعتماد تعلقات کے قیام کی مساعی جاری رکھیں‌ گے: روحانی

امریکا اور اسرائیل نے شام کی سلامتی خطرے میں ڈال رکھی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے شہر سوچی میں صدر ولادی میر پوتین اور ان کے ترک اور ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات اختتام پذیر ہو گئی۔ تینوں‌ ملکوں کی سربراہ کانفرنس کا سب سے بڑا موضوع شام کی تازہ صورت حال اور شام میں سیاسی عمل میں پیش رفت تھا۔ کانفرنس میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ایران کے حسن روحانی نے شرکت کی۔

اس موقع پر افتتاحی خطاب میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا کہ شام میں دستور ساز کمیٹی کو اپنا کام شروع کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادلب میں دہشت گردوں کی موجودگی قبول نہیں۔ انہوں‌ نے مزید کہا کہ شام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ باہر سے مسلط کرنے کے بجائے شامی عوام کو کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ دمشق میں سیاسی عمل کے نتیجے میں شام اور عرب ممالک کے تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

صدر پوتین کا کہنا تھا کہ ایران اور ترک صدور کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں شام سے امریکی فوج کے انخلاء پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکا اور اسرائیل پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عاید کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران شام کی وحدت اور سالمیت کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

حسن روحانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے شام کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ شام میں دہشت گردوں کی طرف سے ترکی کو لاحق خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ترکی کو شام میں دہشت گردوں کے خطرات سے ضمانت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں‌ نے ادلب میں روس اور ترکی کے درمیان طے پائے ’’محفوظ علاقے‘‘ کے معاہدے اور جنگ بندی کی تمام شرائط پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ حسن روحانی کا کہنا تھا کہ النصرہ فرنٹ اپنا نام بدل کر خود کو نہیں بچا سکتی۔ انہوں نے شام کے سرحدی علاقوں میں اسدی فوج کی تعیناتی پر بھی زور دیا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ تہران، انقرہ اور دمشق کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کوشش ہے کہ ترکی اور شامی حکومت کے درمیان پہلے جیسے قابل اعتماد تعلقات دوبارہ قائم ہوں۔ اس موقع پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ 40 لاکھ شامی پناہ گزین اپنے وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ انہوں‌ نے اسد رجیم پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

ترک صدر نے کہا کہ شام میں تشدد کی آگ دوبارہ بھڑکانے کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہ ہی ترکی اپنی جنوبی سرحد کو دہشت گردوں کی گذرگاہیں بننے کی اجازت دے گا۔