.

یمن حکومت نے الحدیدہ میں انسانی 'کوری ڈور' کھول دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے بتایا ہے کہ اس نے ساحلی شہر الحدیدہ میں میں شہریوں کی آزادانہ آمدو رفت کے لیے 'ہیومن کوریڈور' کھول دیےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کی آئینی حکومت کی طرف سے الحدیدہ کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کے رابطہ کار ڈینش جنرل مائیکل لولیسگارڈ کو بتایا کہ حکومت نے انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے اور شہریوں کی آمد ورفت کے لیے الحدیدہ شہر کی تمام کوری ڈور کھول دیے ہیں۔

الحدیدہ میں آئینی حکومت کی طرف سے نگرانی کے لیےقائم کردہ کمیٹی کے چیئرمین صغیر بن عزیز نے 'یواین' مبصر مشن کے سربراہ لولیسگارڈ کو ایک مکتوب میں مطلع کیا کہ حکومت نے الحدیدہ میں 8 کلو میٹر، 16 کلو میٹر، ساحلی شاہراہ 60 اور دیگر راہ داریوں کو کھول دیا گیا ہے، جس کے بعد بحر الاحمر کے ساحل پرموجود غلے کے گوداموں اور آٹا ملوں تک رسائی آسان ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ راہ داریاں کھلنے سے شہر سے امدادی سامان لے لدے قافلوں کو شہر کے اندر دخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

دوسری طرف حوثی ملیشیا نے اپنے زیرتسلط الحدیدہ میں راہ داریاں کھولنے سے انکار کردیا ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کی طرف سے جاری ایک بیان میں حوثیوں پر سویڈن میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق سویڈن میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی طے پائے جنگ بندی سمجھوتے کے بعد اب تک حوثی کم سے کم 1400 بار اس کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔