.

امریکی پابندیوں کا خوف ، عراقی کردستان نے ایران کو تیل کی برآمد روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کردستان میں قدرتی ثروت کی وزارت کے ایک سرکاری ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ مقامی حکومت نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے کردستان کی آئل فیلڈز کے ذریعے ایران کو خام تیل کی برآمد روک دی ہے۔

مذکورہ ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کردستان حکومت کی جانب سے جاری فیصلے میں 14 فروری 2019 سے ایران کو تیل کی برآمد روک دی گئی اور سرحدی گزر گاہوں کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں عراقی پارلیمنٹ کے سابق رکن اور تیل و توانائی کی کمیٹی کے رکن عواد العوادی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے کردستان کی حکومت پر بہت دباؤ ہے تا کہ تہران پر واشنگٹن کی پابندیوں کے تحت ایران کے ساتھ خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے تبادلے کو روک دیا جائے۔

العوادی کے مطابق تیل کی ایک بڑی مقدار ٹرکوں کے ذریعے سرحدی راستوں سے ایران اسمگل کی جاتی ہے اور تیل کی یہ مقدار حکومتی فیصلوں کے تحت نہیں آتی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسمگلنگ کا عمل نہیں رکے گا۔ العودی نے واضح کیا کہ قانونی طریقے سے ایران کو برآمد کیے جانے والے تیل کی مقدار یومیہ 40 ہزار بیرل سے زیادہ نہیں ہے۔ تاہم اس حجم کے چھوٹے ہونے کے باوجود اس کا روکا جانا ایرانی معیشت پر اثر انداز ہو گا۔

کردستان کے پارلیمنٹ کے رکن شیرکو جودت نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے باور کرایا کہ کردستان کی آئل فیلڈز سے تیل کی برآمد روک دی گئی ہے تاہم اس فیصلے کا ایران پر امریکی پابندیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کے حوالے سے کردستان حکومت اور ایرانی حکومت کے درمیان پہلے ہی سمجھوتا ہو چکا ہے۔