.

امیر قطر اور ریاست کے سیاسی مواقف میں تضادات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وارسا کانفرنس میں قطر کی شرکت اور اس کے میڈیا کی جانب سے عرب ممالک کی شرکت پر تنقید ،،، قطر کی پالیسیوں میں تضادات کے سلسلے کی ہی کڑی ہے۔

امیر قطر کے اعلان کردہ مواقف اور قطری اور اخوانی شخصیات کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں فرق واضح ہے۔

قطر ایک طرف تو اسرائیل کے ساتھ رابطہ کاری میں مصروف ہے تو دوسری جانب صہیونی ریاست کے ساتھ معمول کے تعلقات پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ دوحہ ایک جانب واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کا دم بھرتا ہے تو دوسری جانب امریکی پابندیوں کو چکمہ دینے کے لیے ایران کی مدد بھی کر رہا ہے۔

یہ تضاد اس قطری انقسام کو نمایاں کرتا ہے جو امیر قطر تمیم بن حمد اور ان کی حکومت کی سرکاری پالیسی اور ،،، الاخوان کے ساتھ مربوط ریاست کی اہم شخصیات کے درمیان پایا جاتا ہے۔

سابق وزیراعظم حمد بن جاسم اور اخوانی قیادت اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات سے انکار اور مسئلہ فلسطین کے تحفظ کی ضرورت کے پردے میں کڑی نکتہ چینی کرتے ہیں جب کہ دوسری جانب قطر غزہ کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ رابطہ کاری رکھنے والا عرب ملک ہے۔

یہاں تک کہ امیر قطر تیم بن حمد گزشتہ برس مئی میں ایک ہنگامی پیغام کے ذریعے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک ملاقات کے انتظامات کر رہے تھے۔ اس بات کا انکشاف اسرائیلی میڈیا کی جانب سے کیا گیا۔

قطری میڈیا اور دوحہ میں موجود اخوانی شخصیات نے امریکا پر نکتہ چینی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ ایران کے حوالے سے واشنگٹن اپنا موقف نارمل بنائے۔ دوحہ کا یہ موقف امیر قطر کے اعلان کردہ اس موقف سے میل نہیں کھاتا کہ قطر اور امریکا کے درمیان تزویراتی تعلقات ہیں۔ البتہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوحہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کافی دور تک چلا گیا ہے۔ اس کا واضح ثبوت تہنیتی پیغامات کے تبادلوں، فضائی پروازوں کے کھولے جانے اور تجارتی رابطہ کاری کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔

مذکورہ سے بعض لوگوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ دوحہ میں مقیم الاخوان کی قیادت کس حد تک اثر انداز ہے۔