.

ایران کا سیٹلائٹ چھوڑنے کی دوسری کوشش کے ناکام ہونے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایران کی جانب سے سیٹلائٹ چھوڑنے کی دوسری کوشش بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ ظریف کا یہ اعتراف جمعے کے روز برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں سامنے آیا۔

ایران نے گزشتہ ماہ سیٹلائٹ چھوڑنے کی کوشش کی تھی تاہم یہ بھی ناکام ہو گئی۔

امریکا کو تشویش ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی ٹکنالوجی کو محض خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کے لیے نہیں بلکہ میزائل وارہیڈ فائر کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

ایران کا دعوی ہے کہ فضا میں سیٹلائٹ بھیجنے کی کوششوں اور میزائل تجربات سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کسی قرار داد کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

ایران نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اس نے ایک سیٹلائٹ چھوڑنے کی کوشش کی مگر وہ مطلوبہ رفتار تک نہیں پہنچ سکا اور ناکام ہو گیا۔ ٹیلی کمیونی کیشن کے ایرانی وزیر نے اس وقت کہا تھا کہ "پیام" سیٹلائٹ کو تین برسوں تک تصاویر لینے کی غرض سے استعمال کیا جانا تھا۔

ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ پہلا سیٹلائٹ 2009 میں ایرانی انقلاب کی 30 ویں سال گرہ پر بھیجا تھا۔ رواں سال ایران میں انقلاب کے 40 برس پورے ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے پاس ایرانی میزائل تجربات میں خلل ڈالنے کے لیے خفیہ پروگرام ہے۔ سابق اور موجودہ سرکاری عہدے داران کے مطابق یہ پروگرام امریکا کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد تہران کی عسکری صلاحیتوں کو سبوتاژ کرنا اور اس کی معیشت کو تنہا کر دینا ہے۔

مذکورہ عہدے داران کا کہنا ہے کہ اس بات کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ یہ خفیہ پروگرام کس حد تک کامیاب رہے گا جس کا اعلانیہ طور پر اعتراف نہیں کیا گیا۔ البتہ امریکی اخبار نے اس پروگرام کو ایران کی جانب سے سیٹلائٹ چھوڑنے کی دو ناکام کوششوں کے ساتھ نتھی کیا ہے۔

اخبار کے مطابق 15 جنوری اور 5 فروری کو ہونے والی یہ دونوں ناکام کوششیں گزشتہ 11 برس سے جاری ایرانی پروگرام کا حصہ تھیں۔