.

شام : صوبہ دیرالزور میں داعش کا مکمل گھیراؤ، صرف نصف مربع کلومیٹر تک محدود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں انتہا پسند گروپ داعش کے جنگجو صرف نصف مربع کلومیٹر علاقے تک محدود ہو کررہ گئے ہیں اور شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) نے ان کا چاروں اطراف سے گھیراؤ کر لیا ہے۔

امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف ) کی داعش کے خلاف اس فیصلہ کن کارروائی میں کمان کر نے والے کمانڈر جیا فرات نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم اس بات کی تصدیق چاہتے ہیں کہ باغوز فائرنگ رینج میں ہو اور مکمل محاصرے میں ہو‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ حالیہ دنوں میں داعش قریباً 700 مربع میٹر پر مشتمل علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں‘‘۔

اس سے قبل آج ہی امریکا کے نائب صدر مائیک پِنس نے جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ سکیورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شام سے فوجیوں کے انخلا کے باوجود داعش کے بچھے کچھے جنگجوؤں کا پیچھا کیا جائے گا اور امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر داعش کی سرکوبی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

ایس ڈی ایف نے دیر الزور میں ستمبر میں داعش کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔اس کے بعد سے انھوں نے اس سخت گیر جنگجو گروپ کے زیر قبضہ کم وبیش تمام علاقے واگزار کرالیے ہیں اور اس کو دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں صرف نصف مربع کلومیٹر علاقے تک محدود کردیا ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ علاقے میں داعش کے قریباً چھے سو جنگجو موجود ہیں ۔ ان میں زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔

دسمبر میں داعش اور ایس ڈی ایف کے درمیان لڑائی میں شدت کے بعد سے علاقے سے 37 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں، ان میں انتہا پسند جنگجوؤں کے بیوی بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ انھیں ایس ڈی ایف کے زیر قبضہ صحرائی علاقے میں منتقل کیا گیا ہے۔رصدگاہ کے مطابق ان میں قریباً 3200 مشتبہ انتہا پسند بھی شامل ہیں۔ انھیں ایس ڈی ایف نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں دیرالزور میں گرفتار کیا تھا۔