.

نیتن یاھو کے 'اشتعال انگیز' بیان پر پولینڈ حکومت سخت برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں پولینڈ کے دارالحکومت 'وارسا' میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے حوالے سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس میں امریکا سمیت کئی دوسرے ممالک نے شرکت کی۔ ان میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو بھی شامل تھے۔

کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک ایسا متنازع بیان دیا جس نے پولینڈ کو اسرائیل کے خلاف سخت برہم کردیا۔ اگرچہ وزیراعظم یاھو نے واضح کیا ہے کہ ایک عبرانی اخبار نے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر شائع کیا جس کے نتیجےمیں غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔

نتین یاھو نے وارسا کانفرنس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے 'ہولوکاسٹ' جیسے حساس موضوع پر بات کی۔ انہوں‌ نے کہا کہ 'جرمنی کے نازیوں کے ساتھ مل کر پولینڈ کے لوگوں‌ نے بھی یہودیوں کا قتل عام کیا تھا۔

اگلے روز ان کا یہ بیان اخبار'یروشلم پوسٹ' میں شائع ہوا۔ اخبار میں اس بیان کی اشاعت کے بعد وارسا میں متعین اسرائیلی سفیر کو پولینڈ نے دفتر خارجہ میں طلب کرکے ان سے سخت احتجاج کیا۔

دوسری جانب وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس کے نتیجے میں پولینڈ کی حکومت غلط فہمی کا شکار ہوئی ہے۔

یروشلم پوسٹ نے 'پولینڈینز' کی اصطلاح استعمال کی جس سے یہ تاثر ابھرا کے نیتن یاھو پولینڈ کی پوری قوم پر نازیوں کے ساتھ مل کر یہودیوں کے قتل عام کا الزام عاید کر رہے ہیں مگر انہوں نے اپنے بیان میں وضاحت کی ان کا مقصد پوری پولستانی قوم کی طرف اشارہ کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ وہ ان چند عناصر کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو یہودیوں کے قتل میں ملوث پائےگئے تھے۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق تل ابیب میں متعین پولش سفیرہ انا ازاری کو بھی طلب کرکے وزیراعظم پر الزام ترشی پر ان سے احتجاج کیا گیا۔

جمعرات کو اسرائیلی اخبار'یدیعوت احرونوت' نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ وزیراعظم نے واراسا میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولینڈ کے لوگوں‌ کی تاریخ سے آگاہ ہوں۔ سب جانتے ہیں، میں انکشاف نہیں کر رہا کہ پولینڈینز نے دوسری عالم جنگ میں جرمنی کے نازیوں کے ساتھ مل کر یہودیوں کا ہولوکاسٹ کیا تھا۔

ان کے اس بیان پر پولینڈ کے صدر انڈریہ ڈوڈا نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا اور اسرائیلی قیادت سے چند گھنٹے قبل ہونے والی گرم جوش ملاقاتوں پر پانی پھر گیا۔ صدر ڈوڈا نے کہا کہ اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ اسرائیلی وزیراعظم اس طرح کی گفتگو کرتے ہیں تو میں ان کی جگہ فیشی گرڈ گروپ کے سربراہان کا اجلاس بلا لیتا۔