.

پیرا گوئے حزب اللہ کے لیے مالیاتی جنت کیسے ثابت ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

براعظم جنوبی امریکا کے ملک پیرا گوئے کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جو لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مقربین کی سرگرمیوں کا مرکز شمار کیے جاتے ہیں۔

ٹیکس وصولی کے اعتبار سے پیراگوئے ہمیشہ سوالیہ نشان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں پر حزب اللہ جیسے گروپوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ مالیاتی نظام میں شفافیت کے فقدان نے بھی حزب اللہ کو اپنے پنجے گاڑنے میں مدد کی۔

پیرا گوئے میں سرگرم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ کی سرگرمیاں صرف دارالحکومت اسونسین تک محدود نہیں بلکہ یہ نیٹ ورک پڑوسی ملک ارجنٹائن اور برازیل تک پھیلا ہوا ہے۔

حزب اللہ کے نیٹ ورک میں شامل عناصر ان ملکوں سے آسانی اورسہولت کے ساتھ منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ منشیات کا دھندہ چلاتے ہیں۔ اگرچہ پیراگوئے کی حکومت حزب اللہ کے خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے مگر وہ اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

امریکا نے پیراگوئے میں ایران نواز قوتوں اور حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل سفارت کاروں کا تقرر کیا۔ اب امریکا پیرا گوئے میں سفارتی میدان میں تمام خالی آسامیوں پر جلد از جلد تعیناتیاں کرنا چاہتا ہے۔

پیراگوئے کو سب سے بڑا چیلنج ٹیکسوں کی ادائی سے لوگوں کا فرار ہے۔ منی لانڈرنگ بھی ایک مسئلہ ہے مگر ٹیکس چوری سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پیراگوئے کے صدر ماریو عبدو لبنانی نژاد ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ان کا ملک ٹیکسوں کے معاملے میں عدم شفافیت کا شکار ہے۔ وہ ٹیکس چوری کی فہرست والے ممالک میں 130 ویں نمبر سے 180 نمبر پر چلا گیا ہے، جس کے بعد پیراگوئے پر اپنی مالیاتی نظام میں شفافیت لانے کے لیے دبائو مزید بڑھ گیا ہے۔

پیراگوئے کو اس بات پر فخر بھی ہے کہ وہ اپنے شہریوں پر بہت کم ٹیکس عاید کرتا ہے مگر اس کا فائدہ عوام سے زیادہ اسمگلر اور حزب اللہ جیسے عناصر اٹھاتے ہیں۔