.

سعودی عرب اور پاکستان میں قربت سے ایران بوکھلا اٹھا ہے: تجزیہ کار

’’ایران اپنی سرزمین پر مسلح عناصر کا مقابلہ نہیں کر سکتا، وہ پاکستانی فوج کا کیسے مقابلہ کرے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب پر حالیہ حملے میں سعودی عرب، امارات اور پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق ایرانی الزام کی وجوہات پر روشنی ڈالتے پاکستانی تجزیہ کار علی احمد مہر نے باور کرایا ہے کہ "ایران درحقیقت حالیہ چند ماہ کے دوران افغانستان کے حوالے سے مذکورہ تینوں ملکوں کی رابطہ کاری سے پریشان ہو گیا ہے۔ اس رابطہ کاری نے افغانستان کے منظر نامے میں ایران کو تنہا اور غیر مؤثر کر دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو خطے کے ممالک، روس، چین اور خلیجی ممالک کی تائید حاصل ہے۔‘‘

ان خیالات کا اظہار علی احمد مہر نے العربیہ نیوز چینل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپاہ پاسداران انقلاب پر حملے میں ملوث ہونے سے متعلق ایرانی بیان سے پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید مضبوطی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس الزام کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے سے براہ راست تعلق ہے۔بالخصوص جب کہ چھ ماہ کے اندر وزیراعظم عمران خان نے امارات کے تین اور سعودی عرب کے دو دورے کیے اور تہران کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔ ایران سخت مایوس ہے کیوں کہ اس کا تمام حساب کتاب غلط ہو گیا۔

پاکستان میں حملوں کے حوالے سے ایرانی پاسداران انقلاب کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے علی مہر نے سوال کیا کہ "جو لوگ اپنی سرزمین پر مسلح عناصر کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں ان کے لیے پاکستانی فوج کا مقابلہ کرنا کیسے ممکن ہو گا ؟"۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی آرمی چیف پہلے بھی کئی مرتبہ پاکستانی اراضی میں کارروائیوں کی دھمکی دے چکے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے جمعے کی شب دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ "اگر پاکستان اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کرتا ہے تو ایران بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر اپنی سرحد پر موجود خطرات سے نمٹنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور وہ دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے جوابی کارروائی کرے گا"۔ جعفری نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے پاسداران انقلاب کے کیمپ پر حملہ کرنے والے مسلح گروپ کو سپورٹ فراہم کی۔ بدھ کے روز ہونے والے حملے میں پاسداران کے 27 ارکان مارے گئے تھے۔ جعفری نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف بھی فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے ان دونوں ممالک کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کے کیمپ پر کار بم حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا مگر اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

ایک سنی جنگجو گروپ جیش العدل نے اس کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ یہ گروپ پاکستان کے ساتھ واقع ایران کے سرحدی علاقے میں برسرپیکار ہے۔ اس کے بیان کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ ایران اب اس سرحدی علاقے میں کوئی فوجی کارروائی کرے گا۔