.

شامی حکومت کے نئے ہاؤسنگ منصوبے پر بشار کے حامی بھی چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ورک افیئرز کی وزارت کے زیر انتظام ہاؤسنگ کارپوریشن کی جانب سے پیش کیے جانے والے نئے منصوبے نے بشار حکومت کے حامیوں سمیت شامی حلقوں میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ کمپنی نے پراپرٹی کے منصوبے سے متعلق سبسکرپشن کا اعلان کیا ہے ، اس منصوبے میں 13 ہزار کے قریب رہائشی یونٹ شامل ہوں گے۔

رہائشی یونٹوں کے انتہائی چھوٹے رقبے کے سبب اس منصوبے کو تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہاؤسنگ کارپوریشن کے بیان بتایا گیا کہ ہر یونٹ کا رقبہ 40 سے 60 مربع میٹر کے درمیان ہو گا۔

منصوبے میں شامل یونٹوں کو بشار حکومت کے زیر کنٹرول کئی صوبوں میں سبسکرپشن کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں دمشق کا نواحی دیہی علاقہ، حمص، حماہ، حلب، لاذقیہ، سویداء، قنیطرہ اور درعا شامل ہے۔ یونٹوں کی مجموعی تعداد 12200 بنتی ہے۔ فی یونٹ ابتدائی قیمت 75 لاکھ شامی لیرہ مقرر کی گئی ہے جو 15 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔ اس طرح فی میٹر قیمت 400 ڈالر کے قریب بنتی ہے جب کہ حکومتی اداروں میں ملازمین کی تنخواہ 30 ہزار لیرہ یعنی 60 ڈالر کے قریب ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ سرکاری ملازم اپنی سال بھر کی تنخواہ سے بھی منصوبے میں پیش کیے جانے والے رہائشی یونٹ کے چند مربع میٹر سے زیادہ نہیں خرید سکے گا۔

شامی حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس منصوبے کے بارے میں مضحکہ خیز اور طنزیہ تبصرے کیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ہے کہ "40-60 مربع میٹر، یہ گھر نہیں بلکہ جیل ہے!"۔ ایک دوسرے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "40 مربع میٹر، یہ تو غسل خانہ یا بیت الخلاء ہو سکتا ہے!"۔ ایک اور تبصرے میں ایک خاتون نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "40-60 مربع میٹر، وطن کی اراضی کو اس طرح سے لٹانا جائز نہیں ، اس گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تا کہ نوجوانوں کو گھر میسر آ سکے۔ فضول خرچی حرام ہے!"۔

شامی حکومت کے ہاؤسنگ کارپوریشن کے مطابق ہر رہائشی یونٹ کے لیے ابتدائی طور پر پانچ لاکھ شامی لیرہ ادا کرنا ہوں گے جو ایک سرکاری ملازم کی سال بھر کی تنخواہ سے بھی زیادہ رقم ہے۔ بعد ازاں ماہانہ قسط بیس ہزار لیرہ مقرر کی گئی ہے جو کہ سرکاری ملازم کی تنخواہ کا دو تہائی حصہ بنتا ہے۔ یہ بھی اس صورت میں جب کہ ابتدائی ڈپازٹ کی رقم ادا کر دی جائے۔

رہائشی یونٹ کی بلند قیمت اور رقبے کی کمی کے باوجود شامی حکومت کا کہنا ہے کہ ان یونٹوں کے اضافی اخراجات اپارٹمنٹ کے مالک کو ادا کرنا ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں یونٹ کی حتمی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا جس پر شامی حلقے چراغ پا ہو گئے ہیں۔

شامی حکومت نے سبسکرپن کے لیے اعلان کردہ رہائشی یونٹوں میں 50% کو اپنے مقتول اور زخمی اہل کاروں کے لیے مختص کر دیا ہے تا کہ اپارٹمنٹ کی ملکیت کا امکان کم سے کم ہو جائے۔