.

یورپی ممالک شام سے داعشی جنگجوؤں کو واپس بلائیں ورنہ ... ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کئی یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اُن شہریوں کو واپس لائیں جنہوں نے شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑائی میں حصہ لیا اور ان افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کریں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکا ان افراد کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا لہذا اس کے پاس پھر ایک ہی بُرا آپشن رہ جاتا ہے کہ ان تمام افراد کو رہا کر دیا جائے جس کے بعد وہ یورپ میں سرائیت کر جائیں گے۔

ٹویٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم فرانس ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر حلیف یورپی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ داعش تنظیم کے اُن 800 سے زیادہ ارکان کو واپس اپنے وطن لے کر آئیں جن کو ہم نے شام میں پکڑا ،،، علاوہ ازیں ان افراد کے خلاف عدالتی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ داعش کی خلافت ڈھیر ہونے کے قریب ہے اور امریکا کے پاس کوئی مناسب متبادل آپشن نہیں سوائے یہ کہ ان تمام افراد کو رہا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکا یہ ہر گز نہیں دیکھنا چاہتا کہ یہ داعشی عناصر یورپ میں سرائیت کر جائیں۔ ہم نے بہت کچھ کیا ہے۔ وقت اور مال لگایا اور اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرے لوگ اپنا کردار ادا کریں۔ داعش کی خلافت کی ہزیمت کے بعد ہم مکمل طور پر (شام سے) نکل جائیں گے"۔

یاد رہے کہ شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ داعش تنظیم کے بچے کھچے عناصر دیر الزور کے دیہی علاقے میں 600 یا 700 مربع کلو میٹر کے رقبے میں محصور ہیں ،،، اور داعش تنظیم کی ہزیمت میں چند دن سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

امریکی صدر نے جمعے کے روز اپنے اعلان میں کہا تھا کہ "ہمارے پاس شام کے حوالے سے اور وہاں داعش تنظیم پر قابو پانے میں کامیابی کے حوالے سے ایک اہم اعلان ہے۔ اس اعلان کو 24 گھنٹوں کے اندر منظر عام پر لایا جائے گا"۔