.

ایرانی ایندھن حوثیوں کی جنگ بھڑکائے رکھنے کا اہم ذریعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے متعلق اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ حوثیوں کو الحدیدہ کی بندرگاہ کے راستے ایندھن کی درآمدات پر عائد ٹیکس کی مد میں سالانہ کم از کم 30 کروڑ ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔ بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جانے والے ایندھن کی آمدنی اس کے علاوہ ہے جس کی قیمت گزشتہ دو برس کے دوران کئی مرتبہ بڑھ چکی ہے۔

رواں سال جنوری کے اواخر میں جاری ہونے والی رپورٹ کو گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کو سیلولر اور نان سیلولر ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں اور تمباکو کی کمپنیوں کے پرمٹ کی فیس کی مد میں سالانہ 74 کروڑ ڈالر حاصل ہو رہے ہیں۔ حوثیوں کی آمدنی کے بہت سے ذرائع ہیں۔ ان کی طرف سے الحدیدہ اور الصلیف کی بندرگاہوں پر کسٹم چنگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ میں دو کمپنیوں کے درمیان دستخط شدہ معاہدے کی دستاویز بھی شامل کی گئی ہے۔ اس دستاویز سے واضح ہوتا ہے کہ حوثی ملیشیا درآمد شدہ ایندھن کے ہر لیٹر پر 48.9 یمنی ریال وصول کر رہی ہے۔ ایندھن کی درآمدات کے لحاظ سے حوثیوں کو مذکورہ مد میں ماہانہ اوسطا 2.4 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔

رپورٹ میں 20 دسمبر 2016 کو قتل کی ایک مشتبہ کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس کارروائی میں دارالحکومت صنعاء میں مقیم صحافی محمد عبدہ العبسی کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ العبسی جنگ کی فنڈنگ کے لیے ایندھن کی درآمدات میں حوثی قیادت کے ملوث ہونے کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کر رہا تھا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حوثی ملیشیا یمن کی آئینی حکومت کے خلاف اپنی جنگ کی فنڈنگ ایران سے آنے والے ایندھن کی آمدنی سے کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یمن کے اندر اور باہر کئی کمپنیوں کا بھی انکشاف کیا گیا جو جعلی دستاویزات استعمال کرتے ہوئے اس کارروائی میں منظر عام پر موجود نظر آ رہی ہیں۔ دستاویزات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حوثیوں کو دیا جانے والا ایندھن عطیات کی مد میں ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ایندھن جعلی دستاویزات کے تحت ایران کی بندرگاہوں پر لادا جاتا ہے تا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے تفتیش اور معائنے کی کارروائی سے بچا جا سکے۔

ماہرین نے اپنی ایک سابقہ رپورٹ میں کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے حوثیوں کو ہر ماہ تین کروڑ ڈالر مالیت کا ایندھن پیش کیے جانے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔