فلسطینیوں سے وصول کئے گئے ٹیکس اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو دینے سے انکاری

ٹیکسوں کی رقوم مزاحمت کاروں کے خاندانوں کی کفالت پر صرف کرنے کا اسرائیلی الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی پر ایک اور معاشی بم گراتے ہوئے اپنے ذمہ واجب الاداء 10 کروڑ 38 لاکھ ڈالر کی رقم یہ کہہ کر روک دی ہے کہ اتھارٹی اس رقم سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں کے خاندانوں کی کفالت پر خرچ کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی کابینہ کے اتوار کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں کی مد میں اب 10 کروڑ 38 لاکھ ڈالر کی رقم ادا نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ رقم ان فلسطینی قیدیوں کے اہل خانہ کی کفالت پرخرچ کی جاتی ہے جو اس وقت مزاحمتی کارروائیوں کے الزام میں اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔

اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکا کا موقف ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ملنے والی رقوم فلسطینی مزاحمت کاروں کے خاندانوں کی کفالت پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان کے بچوں کی دیکھ بحال، تعلیم اور دیگر ضروریات اسی رقم سے پوری کی جاتی ہیں۔

گذشتہ برس اسرائیلی پارلیمان نے ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کو ملنے والی رقم اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں پر خرچ کی جاتی ہے تو اسرائیل وہ رقم روکنے کا مجاز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں