حماس نے کرم ابو سالم گذرگاہ سے فلسطینی اتھارٹی کا عملہ نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان تجارتی آمد ورفت کے لیے استعمال ہونے والی 'کرم ابو سالم' گذرگاہ پر تعینات فلسطینی اتھارٹی کا عملہ وہاں سے نکال باہر کرنے کے بعد اس پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے۔

خبر رساں ادارے'وفا' کے مطابق حماس نے اسرائیل سے متصل کرم ابو سالم گذرگاہ پر تعینات فلسطینی اتھارٹی کے عملے کو بے دخل کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کو حماس کے مسلح ارکان نے کرم ابو سالم کراسنگ پر تعینات فلسطینی اتھارٹی کےعملے کو وہاں سے نکل جانے کو کہا۔ حماس نے تصدیق کی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا عملہ کرم ابو سالم گذرگاہ سے نکل چکا ہے۔

غزہ میں حماس کی وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم نے بتایا کہ غزہ حکومت نے کرم ابو سالم کے حوالے سے جو اقدام کیا ہے وہ سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے ناگزیر تھا۔ حالیہ ایام میں غزہ کی پٹی میں بدامنی کے بعض واقعات کے بعد ایسا کرنا اور بھی ضروری ہو گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے عملے نے غزہ کی پٹی کی انتظامیہ کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔ فلسطینی عوام کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر اس گذرگاہ کو کھولا گیا ہے۔

سنہ 2007ء کو حماس نے تحریک ’’فتح‘‘ کو غزہ سے بے دخل کر دیا تھا تاہم سنہ 2017ء کو حماس نے گذرگاہوں کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ کرم ابو سالم کراسنگ غزہ اور غرب اردن کے درمیان تجارتی آمد ورفت کا اہم ترین ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں