.

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی پہلی شرط فلسطینی ریاست کا قیام ہے:عمان

تل ابیب سے رابطے امن کے قیام کے لیے ہیں: یوسف بن علوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٌخلیجی ریاست سلطنت عمان کے وزیرخارجہ یوسف بن علوی نے قطری ذرائع ابلاغ کی طرف سے مسقط اور تل ابیب کے درمیان رابطوں پر تنقید کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ رابطے فلسطینیوں کے حقوق کی نفی کے مترادف نہیں بلکہ ان کا مقصد خطے میں دیر پا امن کے قیام کی مساعی کو آگے بڑھانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دورہ عمان کا مقصد صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کا قیام نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسقط اسرائیل کے ساتھ رابطوں کے ذریعے ایک ایسی راہ تلاش کررہا ہے جس کی مدد سے قضیہ فلسطین کا منصفانہ حل، فلسطینیوں کے حقوق کی ضمانت اور تمام فریقین کے مفاد میں فیصلے کیے جا سکیں۔

یوسف بن علوی کا کہنا تھا کہ اومان کسی کا ایجنٹ بن کر اسرائیل کے ساتھ رابطے نہیں کر رہا ہے تاہم ہم سب کی کوشش ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی سب سے بڑی شق آزاد اور مکمل طور پرخود مختار فلسطینی ریاست کا قیام اوراس حوالے سے عالمی سطح پر منظور کی گئی قراردادوں پران کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دو ریاسی حل کے لیے فضاء ہموار کرنی چاہیے۔ ہم فلسطین کا منصفانہ اور دیر پا حل چاہتےہیں اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ملک کے تعلقات کی پہلی شرط آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

یوسف بن علوی کا کہنا تھا کہ عالمی قراردادوں میں اسرائیل کو جن عرب علاقوں سے نکلنے کو کہا گیا ہے اسرائیل کو وہ علاقے خالی کرنا ہوں گے۔