.

ایران اور چین کے ہیکروں کے امریکی اہداف پر نئے حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا میں متعدد سرکاری اداروں اور کمپنیوں کو ایرانی اور چینی ہیکروں کی جانب سے کاری سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ انکشاف گزشتہ ماہ ایرانی ہیکروں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اثر اور چین کے ساتھ تجارتی تنازعات ان حملوں کے بنیادی محرکات ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی بینکوں اور حکومتی کمپنیوں اور ایجنسیوں پر حالیہ ایرانی سائبر حملے سابقہ رپورٹوں میں بتائے جانے والے حملوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع پیمانے پر تھے۔

اخبار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بعض عہدے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا میں درجنوں کمپنیوں اور متعدد اداروں کو نشانہ بنا کر ان کی خدمات کو معطل کر دیا گیا۔

قومی سکیورٹی ایجنسی اور اسپیشل سکیورٹی کمپنی Fire Eyeکے تجزیہ کاروں کی جانب سے ایران سے منسوب کیے گئے حملوں نے گزشتہ ماہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران داخلہ سکیورٹی کی وزارت کو ہنگامی حالت کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کر دیا۔

ایران کے نئے سائبر حملے چین کے ایک حملے کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ اس کا مقصد امریکی عسکری کنٹریکٹرز اور ٹکنالوجی کمپنیوں سے تجارتی اور عسکری رازوں کو چرانا ہے۔

اخبار کے مطابق بوئنگ، جنرل الیکٹرک اور ٹی موبائل کمپنیاں حالیہ کارروائی کے اہداف میں شامل ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی اور ایرانی حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے ہیکروں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم سائبر حملوں کے میدان میں اب بھی امریکا کے لیے مرکزی حریف اور مخاصم روس شمار ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی ہیکروں نے گزشتہ برس کے دوران خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ امریکی ادارے Fire Eye کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے حملوں کا دائرہ 80 اہداف تک وسیع ہو گیا۔ ان اہداف میں یورپ کے 12 ممالک اور امریکا میں انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز، سیلولر اور نان سیلولر ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں اور حکومتی ایجنسیاں شامل ہیں۔

امریکی وزارت انصاف نے گزشتہ ہفتے اُن ایرانی ہیکروں کے ناموں کا اعلان کیا تھا جن کو ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے سائبر حملوں کا مشن سونپا گیا۔

امریکا کی ایک عدالت نے بدھ کے روز امریکی فضائیہ کی ایک سابق خاتون انٹیلی جنس افسر مونیکا ویٹ کے خلاف حکم جاری کیا تھا۔ مونیکا پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے اور حساس سکیورٹی عسکری معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ یہ معلومات سائبر حملوں میں استعمال ہوئیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے ان سائبر حملوں اور مونیکا ویٹ سے تعلق رکھنے والے 10 ایرانی افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔