.

بین الاقوامی اتحاد کے سربراہ کی دھمکی کے بعد ایس ڈی ایف کا جوابی موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سرکاری ترجمان کینو کبرائیل کا کہنا ہے کہ شام کے شمال اور شمال مشرق میں خود مختار انتظامیہ کے شامی اور روسی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ترجمان کا یہ موقف داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد کے کمانڈر جنرل پال لیکامیرا کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ لیکامیرا نے اتوار کے روز دھمکی دی تھی کہ ایس ڈی ایف نے دمشق یا ماسکو کا سہارا لیا یا ان کے ساتھ اتحاد کیا تو اس کی عسکری امداد روک دی جائے گی۔

واضح رہے کہ ایس ڈی ایف اس وقت واشنگٹن کا متبادل حلیف تلاش کرنے میں مصروف ہے جو شام سے امریکی انخلا کے بعد اسے ترکی کے حملے سے بچا سکے۔ تاہم ابھی تک ایس ڈی ایف شامی حکومت کے ساتھ کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچی ہے۔

کبرائیل کے مطابق تمام اطراف کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تا کہ علاقے کے تمام معلق امور کے لیے حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے عسکری امداد روک دینے سے متعلق امریکی جنرل پال لیکامیرا کے بیان کو ایک "طبعی امر" قرار دیا۔

ترجمان نے کہا کہ "ایس ڈی ایف اس وقت داعش کے خلاف امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ کام کر رہی ہے ،،، اور جب تک یہ اتحاد زمینی طور پر ہمارے ساتھ موجود ہے، یہ سلسلہ جاری رہے گا"۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز اس وقت شام اور عراق کی سرحد کے نزدیک داعش تنظیم کے آخری گڑھ کے خاتمے کی تیاری کر رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق رواں ماہ کی بیس تاریخ کو ایس ڈی ایف داعش کے جنگجوؤں کے خلاف اپنی "فتح" کا اعلان کرے گی۔

کبرائیل کے مطابق داعش کے بچے کھچے عناصر اس وقت باغوز گاؤں کے ایک محلے میں مکمل طو پر محصور ہیں اور وہ عسکری طور پر ہزیمت سے دوچار ہو چکے ہیں۔

کبرائیل کے نزدیک داعش کے خاتمے کی کارروائی مکمل کرنے میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔ اس طرح داعش کے خلاف ایس ڈی ایف کی عسکری مہم مکمل اور حتمی صورت میں اختتام کو پہنچے گی۔

کبرائیل نے انقرہ کی جانب سے ایس ڈی ایف کو مسلسل دھمکیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام غلط الزمات اور بے بنیاد دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں جو ترکی کی حکومت ایس ڈی ایف کے خلاف عائد کرتی ہے۔

ترکی کی جانب سے مسلسل دھمکی جاتی ہے کہ وہ دریائے فرات کے مشرق اور مغرب میں کرد جنگجوؤں اور ایس ڈی ایف میں ان کے مقامی حلیفوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر زمینی حملہ کرے گا۔ انقرہ حکومت کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو ایک "دہشت گرد" تنظیم اور کردستان ورکرز پارٹی کا ہی دھڑا شمار کرتی ہے۔ کردستان ورکرز پارٹی نے 1984 سے ترکی کے خلاف مسلح بغاوت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔