.

سعودی عرب نے یمن کو 13 ارب ڈالرسے زاید امداد دی: عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے لیے سرگرم عرب عسکری اتحاد نے کہا ہے کہ سنہ 2014ء سے اب تک سعودی عرب نے یمن کو 13 ارب ڈالر سے زاید امداد فراہم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے الریاض میں ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب یمن کو امداد فراہم کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اوردوسرے عرب ممالک اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر یمنی عوام کی مدد کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد یمن میں حوثی باغیوں اور القاعدہ کے خلاف یکساں اقدامات کررہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یمن کی آئینی حکومت اور اس کی مدد کرنے والے عرب ممالک یمنی عوام کی زندگیاں بچانے کے لیے کام کررہے ہیں جب کہ ایران نواز حوثی باغی بیلسٹک میزائل حملے کرتے ، سمندر اور خشکی میں آبادیوں کے قریب بارودی سرنگیں بچھا کر شہریوں کی زندگی کو خطرے میں‌ڈال رہے ہیں۔

کرنل المالکی نے بتایا کہ گذشتہ برس دسمبر میں سویڈن میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اب تک حوثیوں کی طرف سے 1400 بار اسٹاک ہوم معاہدے کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ حوثیوں نے اپنے زیرتسلط علاقوں میں اسکولوں اور شہری آبادی کو بھی فوجی چھانیوں میں تبدیل کررکھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے امریکی اسلحہ یمن میں باغیوں اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کے خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ امریکا سےخریدا گیا اسلحہ یمن میں دہشت گردوں تک نہیں پہنچایا گیا۔ ترجمان نے یمن کے حوثی باغیوں سے چھینا گیا ایرانی ساختہ اسلحہ اور گولہ بارود اور القاعدہ کے قبضے سے لیے گئے ہتھیار بھی دکھائے۔