قطر اپنے مال کے ذریعے واشنگٹن کی پالیسیاں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے : اسٹڈی گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شدت پسند جماعتوں کے امور کے امریکی ماہر ڈیوڈ ریوبی کا کہنا ہے کہ دوحہ امریکا میں پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنا مالی نفوذ استعمال کر رہا ہے۔ ڈیوڈ نے یہ بات سکیورٹی اسٹڈیز گروپ (ایس ایس جی) کی ویب سائٹ پر اپنے ایک مضمون میں کہی۔

ڈیوڈ کے مطابق قطر ایک شرپسند قوت ہے جو پیسہ بہا کر خطے میں اپنی کارستانیوں کو ڈھانپنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ نے نصف صدی سے ایک چھوٹا سا صحرائی آنگن بنا رکھا ہے جس نے الاخوان المسلمین اور کئی شدت پسند تنظیموں کو سمویا ہوا ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ قطر اپنے مالی نفوذ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا میں عمومی پالیسیاں تبدیل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں دوحہ پریشر گروپوں کو خریدنے میں کامیاب رہا تا کہ متعدد متاثرہ شخصیات کے قطر کے حوالے سے مواقف کی شدت میں کمی لا سکے۔

قطر نے بعض میڈیا پلیٹ فارم بھی خریدے جنہوں نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے معاملے میں سعودی عرب کے خلاف امریکی رائے عامہ کو بھڑکانے کی مہم جوئی کی قیادت کی۔

علاوہ ازیں 4 براعظموں میں ہیکنگ کی کارروائی کے پیچھے بھی قطر کا ہاتھ ہے۔ ان سائبر حملوں نے ایک ہزار سے زیادہ شخصیات کو لپیٹ میں لیا تھا۔

دوحہ میں Brookings Center کے ذریعے قطری حکومت نے خطے کے بارے میں فکری تحقیق کے ساتھ کھلواڑ کیا اور دوحہ حکومت پر تنقید کا گلا گھونٹ دیا۔

دوحہ نے کئی امریکی دانش وروں کو کشش دلا کر اپنی سرزمین پر کام کرنے کے لیے تیار کیا اور پھر ان کو اپنی پالیسی پھیلانے کے واسطے استعمال کیا۔

مضمون نگار ڈیوڈ ریوبی نے زور دے کر کہا ہے کہ قطر یہ بھول گیا ہے کہ وہ امریکا میں جو ڈالر لٹا رہا ہے ان سے دوحہ پر عائد دہشت گردی کی سپورٹ اور ایران کے ساتھ اتحاد کا الزام ہر گز ختم نہیں ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں