ہزاروں قیدیوں کا قاتل ایرانی اعلیٰ عدالتی کونسل کا سربراہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ایک قریبی ساتھی اور سنہ 1988ء میں جیل میں قیدیوں کو قتل کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم رئیسی کو سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس تقرری پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے رئیسی کی تعیناتی کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والےاداروں کا کہنا ہے کہ ابراہیم رئیسی جو ہزاروں بے گناہ قیدیوں کے قتل میں قصور ٹھہرائے جاتے ہیں کو اعلیٰ عدالتی کونسل کی قیادت سونپنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران میں قانون کی بالادستی کوئی وجود نہیں۔

عالم مہم برائے انسانی حقوق کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صادق لاری جانی کی جگہ ابراہیم رئیسی کو جوڈیشل کونسل کا سربراہ مقرر کرنا قانون کی بالادستی کو نظرانداز کرنا اور انسانی حقوق کی پامالیوں اور جرائم میں ملوث عناصر کو اعلیٰ عہدوں‌پر تعینات کرنا ہے۔

گذشتہ روز ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان حسن نوروزی نے ایک بیان میں کہا کہ ابراہیم رئیسی کی بطور جوڈیشل کونسل سربراہ توثیق کردی گئی ہے۔ وہ جلد ہی صادق آملی لاری جانی کی جگہ اپنےعہدے کا چارج سنھبالیں گے جب کہ صادق آملی لاری جانی کو گارڈین کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خامنہ کی طرف سے ابراہیم رئیسی کو جوڈیشل کونسل کا سربراہ مقرر کرنا عدلیہ پراپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں‌نے ایرانی سپریم لیڈر کو خبردار کیا کہ ان کے غیر منصفانہ فیصلے سے عوام میں غم وغصے کی ایک نئی لہر دوڑ سکتی ہے۔

ابراہیم رئیسی اس وقت خامنہ ای کے براہ راست حکم سے تین اداروں کی سربراہی کررہے ہیں۔ وہ خبرگان کونسل کے رکن، خصوصی مذہبی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر اور مشہد کے العتبہ الرضویہ کے سادن ہیں۔

ابراہیم رئیسی کو شہرت اس وقت ملی جب وہ 1988ء کو آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قائم کردہ 'ڈیتھ کمیٹی" کا رکن مقرر کیا گیا۔ اس کمیٹی پر سیاسی بنیادوں پر قید کیےگئے دسیوں ہزار قیدیوں کو موت کےگھاٹ اتارے جانےکا الزام عاید کیاجاتا ہے۔

ستاون سالہ ابراہیم رئیسی کو مارچ 2016ء‌کو آستانہ قدس رضوی کا سپر وائز مقرر کیاگیا۔ یہ آستانہ "بنیاد" نامی ایک مذہبی فائونڈیشن کوملنے والے عطیات کی نگرانی کرتی ہے۔ تیل کے سوا ایران کی قومی آمدنی کے 20 فی صد کے برابر اس تنظیم کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق"بنیاد" کے اثاثوں کی مالیت 20 ارب ڈالر ہے۔ ابراہیم رئیسی کا شمار ایرانی رجیم کے ان کل پرزوں میں ہوتا ہے جو ماضی میں ایران میں انتہا پسندی کے فروغ میں ملوث رہنے کے ساتھ ساتھ جیلوں میں قید سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ رئیسی کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتہائی مقرب اور قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سنہ 1980ء کو اس کی عمر صرف 20 سال تھی جب انہیں جیل میں قیدیوں کو قتل کرنے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ سنہ 1985ء میں انہیں تہران پراسیکیوٹر جنرل کا معاون مقررکیا گیا۔ سنہ 1988ء میں‌ان کی قائم کردہ ڈیتھ کمیٹی نے سیکڑوں قیدیوں کوموت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دیا۔ اس کمیٹی میں حسین علی نیری، مرتضیٰ اشراقی، مصطفیٰ بور محمدی اور دیگر شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ہزاروں قیدیوں کو بے دردی کےساتھ جان سے مارنے اور انہیں خمینی کے حکم پر پھانسی دینے کے عمل کی نگرانی کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں