.

جواد ظریف کا ایرانی تیل کی برآمدات میں کمی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ برس نومبر میں امریکا کی طرف سے تہران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

جرمنی سے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ریڈیو'ڈوئچے فیلے' کو دیئے گئے انٹرویو میں جواد ظریف کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات ڈیڑھ ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر ایک ملین بیرل روزانہ پر آگئی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا کی طرف سےایرانی تیل کی خریداری کے لیے 8 ملکوں کو دیا گیا استثنیٰ اپریل کے آخر میں ختم ہونے کے بعد تہران کیا کرے گا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ایران متبادلہ امکانات کو استعمال کرے گا۔ تاہم انہوں نے متبادل امکانات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

نامہ نگار نے ایرانی وزیرخارجہ سے اس کی تفصیل پوچھنا چاہی تو ان کا جواب تھا کہ ہم ٹرمپ کو سرپرائز دیں گے اور اس کے بارے میں فی الحال کوئی تفصیل بتانا مناسب نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ جوہری سمجھوتے سے امریکا کے نکل جانے کے بعد یورپ کو اپنے وعدوں کی سختی سے پاسداری کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے پرعمل درآمد کے 12 نکات پرعمل ضروری ہے۔ مگر اس میں یورپی مالیاتی چینل Instex شامل ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنا اس معاہدے کی اہم شرائط میں سے ایک ہے۔

شام میں ایرانی فوج کی موجودگی کے بارے میں سوال کے جواب میں جواد ظریف نے کہا کہ شام میں ایران کی مداخلت عالمی قانون کے مطابق ہے۔ ہم نے خود چڑھائی نہیں کی بلکہ ہم نے بشارالاسد کی درخواست پر اپنی فوج شام میں بھیجی ہے۔

جواد ظریف نے اسرائیل پر لبنان اور شام کی فضائی خود مختاری کو پامال کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ شام میں اسرائیل کو منہ کی کھانا پڑے گی۔