.

شام : 30 ٹرکوں میں بچوں اور خواتین کا الباغوز سے کوچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرق میں 30 کے قریب ٹرک آج جمعے کے روز الباغوز گاؤں سے شہریوں کو لے کر نکل گئے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ اس موقع پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے دستے بھی قافلے کے ساتھ تھے۔

العربیہ کے نمائندے نے الباغوز کے باہر موجود عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش تنظیم نے ابھی تک شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔

ایس ڈی ایف جمعرات کے روز سے شام کے مشرق میں داعش تنظیم کے آخری ٹھکانے میں رہ جانے والے شہریوں کو نکالنے کے عمل میں مصروف ہے تا کہ اس کے بعد الباغوز پر حملہ کر کے باقی ماندہ شدت پسندوں کو ختم کیا جا سکے یا پھر انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ 400 کے قریب داعشیوں نے الباغوز سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ یہ لوگ داعش کے اس آخری ٹھکانے میں مورچہ بند ہیں اور ان کے ساتھ بعض اہل خانہ اور عام شہری بھی موجود ہیں۔ المرصد کے مطابق داعش کے بچے کھچے عناصر کے زیر کنٹرول علاقوں میں پائے جانے والے سیکڑوں افراد جمعرات کے روز ان کھیتوں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے جہاں داعشی موجود ہیں۔ یہ جگہ الباغوز گاؤں اور دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے درمیان ہے۔

باہر آنے والے 500 کے قریب افراد میں غیر ملکی اور مغربی کمانڈرز اور جنگی امراء شامل ہیں۔ ان افراد سے پوچھ گچھ کے بعد انہیں ایس ڈی ایف کے مراکز منتقل کر دیا گیا۔ اس کھیپ میں شامل شہریوں کو الحسکہ کے دیہی علاقے میں واقع کیمپوں میں پہنچایا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزرے وقت کے دوران 2000 سے زیادہ شہری ٹرکوں کے قافلے میں الباغوز گاؤں سے کوچ کر چکے ہیں۔ ایس ڈی ایف نے الباغوز کو مکمل طور پر محاصرے میں لے رکھا ہے۔