.

قطر اپنے حالیہ اقدامات میں بھی پہلے کی طرح ناکام ہو گا : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک (امارات، سعودی عرب، بحرین اور مصر) کے ساتھ نمٹنے کے لیے دوحہ کی حکمت عملی ناکام ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پلیٹ فارمز پر ناکامی کا مزہ چکھنے کے بعد اب قطر دوسرے مرحلے میں منتقل ہو گا تاہم وہاں بھی وہ شکست کا منہ دیکھے گا۔

جمعرات کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں قرقاش نے کہا کہ بحران سے نکلنے کے لے قطر کی حکمت عملی میں بنیادی مسئلہ پایا جاتا ہے۔ دوحہ پر یہ واضح ہو چکی ہے کہ اس کے میڈیا پلیٹ فارمز کے اثرات محدود ہیں۔

اماراتی وزیر مملکت کے مطابق سعودی عرب "پاسداری" اور "وفاداری" کا مظاہرہ کرنے والی ریاست ہے جس نے کبھی اپنے دوستوں اور حلیفوں کے ساتھ غداری نہیں کی۔ قرقاش نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر قطر کی ڈکشنری میں موجود نہیں۔

سعودی ولی عہد کے حالیہ دوروں کے بارے میں قرقاش نے کہا کہ "سعودی عرب کی اہمیت اور کردار کی روشنی میں شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان اور بھارت کے دوروں کے دور رس اثرات سامنے آئیں گے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قطر اس بات کا ادراک رکھتا ہے اور ان دوروں کی جہتیں اس کے سامنے ہیں۔ ساتھ ہی دوحہ یہ بھی جانتا ہے کہ قطری شہری حکومت کی اس پالیسی پر ملامت کر رہے ہیں جس نے ریاست کو اپنی بنیادی جڑوں اور اطراف سے دور کر دیا ہے۔