.

لبنان : خامنہ ای کا کارٹون شائع کرنے والے میڈیا پرسنز کا قانونی تعاقب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل فرانس کے ایک اخبار Courrier International میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ کا ایک کارٹون شائع ہوا تھا۔ لبنانی حکام نے اخبار کے ملک میں داخل ہونے پر اس کارٹون کو اسٹیکروں کے ذریعے چھپا دیا اور اس کے بعد تقسیم کی اجازت دی گئی۔ تاہم یہ معاملہ کنٹرول میں نہیں آیا اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض لبنانیوں نے اسے دوبارہ شائع کر دیا۔

اس سلسلے میں ایک لبنانی کارکن فادی حدرج نے اپنے قانونی وکیل کے ذریعے لبنان کے جنوبی شہر النبطیہ میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے چار افراد کے خلاف استغاثہ میں شکایتی درخواست دائر کر دی۔ ان چار افراد کے نام نديم قطيش، ديما صادق، عمر حرقوص اور وائل اللادقی ہے۔ مدعی نے دعوی دائر کیا ہے کہ ان افراد نے علی خامنہ سے متعلق ہتک آمیز کارٹون کو دوبارہ شائع کیا ہے جب کہ خامنہ ای شیعہ مرجع شمار کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب خاتون میڈیا پرسن دیما صادق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے باور کرایا کہ وہ اس قانونی معرکہ آرائی میں آخر تک ڈٹی رہیں گی کیوں کہ یہ آزادی اظہار کا معرکہ ہے۔

انقلاب ایران کی 40 ویں سال گرہ پر فرانسیسی اخبار میں شائع ہونے والے کارٹون میں علی خامنہ ای کو غصے میں بھرا ہوا دکھایا گیا ہے جب کہ ان کی پگڑی سے نکلنے والے آگ کے شرارے شہریوں کو جھلسا رہے ہیں۔

لبنان میں اخبار کے اس کارٹون کو اسٹیکروں سے چھپا کر تقسیم کے لیے پیش کیا گیا۔ تاہم چھپانے کی سرکاری طور پر کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ البتہ کارٹون چھپائے جانے کے اقدام نے لبنان میں سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ بالخصوص فرانسیسی اخبار کے قارئین، میڈیا پرسنز اور دیگر کارکنان نے لبنانی حکام کی اس سینسر شپ کو آڑے ہاتھوں لیا۔

لبنان میں دیما صادق نے آزادی اظہار کے دفاع میں اس کارٹون کو دوبارہ شائع کیا۔ اس پر حزب اللہ تنظیم کے حامیوں کی جانب سے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حامیوں نے سکیورٹی فورسز سے دیما کے خلاف حرکت میں آنے کا مطالبہ کیا۔ دیما کے مطابق کارٹون میں کوئی مذہبی فتوی شامل نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی موقف کا اظہار ہے۔