تُرک اپوزیشن رہ نما کا صدر ایردوآن پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے ایک سرکردہ اپوزیشن رہ نما اور کردوں کے حامی لیڈر سیزائی تمیلی نے صدر رجب طیب ایردوآن پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک صدر الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب دوسری جانب حال ہی میں یہ خبریں آئی تھیں کہ شام میں القاعدہ کی ایک شاخ جو پہلے النصر فرنٹ اور اب 'تحریر الشام' کے نام سے سرگرم ہے کا سربراہ کا علاج کے لیے ترکی پہنچ گیا ہے۔

اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے ترک ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کے سربراہ سیزائی تمیلی نے کہا کہ صدرطیب ایردوآن کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لیے اور کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اگر القاعدہ کے لیڈر کو ترکی میں علاج کی اجازت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر طیب ایردوآن اور ان کی حکومت دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سیزائی تمیلی کردوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں جب کہ صدر طیب ایردوآن نے نہ صرف ترکی کے اندر بلکہ پڑوسی ملکوں شام اور عراق میں بھی کرد برادری پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔

ترک سیاسی جماعت HDP کے سربراہ نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ترکی کی حکمران جماعت 'آق' کی طرف سے شام میں دہشت گردوں کے لیے اسلحہ اور دیگر جنگی سامان بھیجا جاتا رہا ہے۔ اسلحے سے لدے کئی ٹرک شام بھیجنے کی کوشش کے دوران پکڑے گئے۔ انہیں شام کے الرقہ شہر میں لڑنے والے دہشت گرد جنگجوئوں کو پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

انہوں‌ نے الزام عاید کیا کہ ترکی اور شام کی گزرگاہوں سے"آق" کے ایک وزیر نے کروڑوں ڈالر کمائے۔ وہ ان گزرگاہوں سے شام میں لڑنے والے جنگجوئوں کو اسلحہ پہنچانے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں بعض گزرگاہوں پر شام میں 'داعش' کے جنگجوئوں کا کنٹرول تھا۔

ایک سوال کے جواب میں تمیلی نے کہا کہ شام میں ترکی کی حمایت میں لڑنے والے ہزاروں جنگجو سیرین ڈیموکریٹک فورسز 'ایس ڈی ایف' کی قید میں ہیں۔ ترکی ایس ڈی ایف کی حمایت کرتا ہے جب کہ ترکی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

تمیلی کا کہنا تھا ترکی کی حکومت شام میں گرفتاری داعش اور النصرہ کے جنگجوئوں اور ان کے خاندانوں کی رہائی سے‌ خایف ہے۔ اس لئے وہ ان کی رہائی کا مطالبہ نہیں کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں