لبنان میں "خمينی" کے نام سے ایونیو موسوم کرنے پر ہنگامہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں رفیق حریری انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا رخ کریں یا وہاں سے کوچ کریں، آپ کو ایئرپورٹ کے داخلی راستے پر نصب ایک بڑے سے سائن بورڈ پر "امام خمينی ایونیو" لکھا ہوا نظر آئے گا۔

اس اقدام نے گزشتہ دو روز کے دوران سوشل میڈیا پر لبنانی حلقوں کے درمیان بڑا تنازع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایک ایونیو کو امام خمینی کا نام دینا لبنان میں سیاسی زندگی کے اندر تہران کی اولین حلیف ملیشیا حزب اللہ کی سرائیت کی عکاسی کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ میزائلوں اور ہتھیاروں کے گودام رکھنے والی شیعہ ملیشیا طاقت کے زور پر اپنی ہر بات کو مسلط کرنے پر قادر ہے۔

اس سلسلے میں لبنان کے سابق وزیر داخلہ ایڈوکیٹ زیاد بارود نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "کسی بھی لبنانی یا غیر لبنانی سیاسی یا مذہبی شخصیت کے نام سے شاہراہ کو موسوم کرنے کا فیصلہ بلدیاتی کونسل کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ منظوری کے لیے وزیر داخلہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے"۔

متعلقہ علاقے کی بلدیہ الغبیری میونسپلٹی کے نائب سربراہ احمد محمد الخںسا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایونیو کو امام خمینی کے نام سے موسوم کرنے کا فیصلہ 2002 میں کابینہ نے کیا تھا۔ حزب اللہ اور ایران کی پالیسی کی مخالف قوتوں نے لبنانی ریاست پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ حزب اللہ کے مفاد میں بیروت ایئرپورٹ کی سکیورٹی ذمے داریوں سے دست بردار ہو گئی ہے۔ مزید برآں یہ کہ ایئرپورٹ کے اطراف تمام علاقے حزب اللہ کے زیر نفوذ ہیں۔

الخنسا کے مطابق اس موضوع سے متعلق حالیہ تنازع اور ہنگامہ اُن حساس سیاسی حالات کا نتیجہ ہے جن سے ملک اس وقت گزر رہا ہے۔

اس سے قبل امریکی اخبار "واشنگٹن ٹائمز" نے ایک سابقہ تحقیق میں الزام عائد کیا تھا کہ حزب اللہ بیروت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے اُن ممالک تک ہتھیار، منشیات اور مسلح عناصر منتقل کر رہی ہے جہاں اس وقت تنازعات جاری ہیں اور وہاں ایرانی پاسداران انقلاب کی مداخلت دیکھی جا رہی ہے ،،، اس کی واضح مثال شام ہے۔

امریکی اخبار نے جون 2018 میں تہران میں لبنانی سفارت خانے کے اعلان کا بھی حوالہ دیا جس میں ایرانیوں کے لیے بیروت ایئرپورٹ پر آمدورفت کے وقت پاسپورٹ پر مہر کی شرط بھی ختم کر دی گئی۔

لبنان کے سابق صدر میشیل سلیمان کے دور میں وزیر داخلہ رہنے والے زیاد بارود کے مطابق ستمبر 2018 میں بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ (حزب اللہ کا گڑھ) کی ایک شاہراہ کو حزب اللہ کے معروف مقتول کمانڈر مصطفى بدر الدين کا نام دے دیا گیا۔ واضح رہے کہ بدر الدین سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کی ہلاکت کی کارروائی میں شریک رہنے کا ملزم ہے۔

اس اقدام کے نتیجے میں لبنان میں وسیع تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

زیاد بارود کا کہنا ہے کہ ملک کی سڑکوں کو غیر لبنانی شخصیات کے نام سے موسوم کرنے کے عمل کو منسوخ کرنے کے لیے وزیر داخلہ کے فیصلے کی ضرورت ہے۔

بیروت میں ایونیو کو خمینی کے نام سے موسوم کرنے کا اقدام لبنان میں سوشل میڈیا کے حلقوں نے یکسر مسترد کر دیا۔ حزب اللہ پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ شیعہ ملیشیا لبنان کو ایک "ایرانی صوبے" میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں حزب اللہ لبنان آنے والوں کا خیر مقدم عربی الفاظ "على الرحب والسعة" کے بجائے فارسی زبان کے الفاظ خوش آمدید" بول کر کرتی ہے۔ بعض لوگوں کے نزادیک یہ لبنان کی شناخت کو تبدیل کرنے اور اس کی تاریخ میں تحریف کے واسطے ایک باقاعدہ منظم کارروائی ہے۔

خمینی کے نام سے ایونیو موسوم کرنے کا اقدام لبنانی حکام کی جانب سے فرانسیسی اخبار "کوریئر انٹرنیشنل" میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ایک کارٹون چھپانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ انقلاب ایران کی 40 ویں سال گرہ پر شائع اس کارٹون میں علی خامنہ ای کو غصے میں بھرا ہوا دکھایا گیا ہے جب کہ ان کی پگڑی سے نکلنے والے آگ کے شرارے ایرانی مظاہرین اور شہریوں کو جھلسا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں