'بوشہر' جوہری پلانٹ جلد ہی کام بند کردیا جائے گا: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی جوہری توانائی ایجنسی کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ 'بوشہر' جوہری پلانٹ پرآئندہ سال مارچ میں کام بند کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی فروخت میں کمی اور جوہری پلانٹ پر استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس پلانٹ کو بند کیا جا رہا ہے۔

ایران کی "ایسنا" خبر رساں ایجنسی نے ایرانی عہدیدار محمد احمدیان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ آئندہ سال بوشہر ایٹمی بجلی گھر کو چالو رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت فروخت میں کمی اور پلانٹ میں بجلی کی تیاری پر استعمال ہونے والے ایندھن میں اضافے کے باعث اس پلانٹ پر کام بند کیا جائے گا۔

ایرانی توانائی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ بو شہر ایٹمی پلانٹ میں ایندھن کی فراہمی کے لیے حکومت کئی سال سے سبسڈی دیتی چلی آ رہی ہے مگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے باعث حکومت اس پلانٹ کو ایندھن مہیا نہیں کرسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بجلی کی قیمت میں کمی اور ایندھن کے مہنگا ہونے کا سلسلہ جاری رہا تو ہم اس پلانٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

گذشتہ برس بوشہر کے جوہری بجلی گھر سے 8 ارب کلو واٹ فی گھنٹہ بجلی تیار کی جاتی رہی ہے۔ ایران میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی بجلی کا یہ دو اعشاریہ پانچ فی صد ہے۔ ایران میں فی گھنٹہ 3 کھرب 12 ارب کلو واٹ بجلی تیار کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں