.

اقوام متحدہ کی قرارداد کے باوجود مشقوں‌ میں ایران کا کروز میزائلوں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 اور یورپی ممالک کے دبائو کے باوجود ایران کی فوجی مشقوں کے دوران ہفتے کے روز کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

خبر رساں ادارے 'تسنیم' کے مطابق ہفتے کے روز پاسداران انقلاب کی مشقیں'ولایت 97' شرو ہوئیں جن میں پیشگی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے 'قادر' اور 'قدیر' نامی کروز میزائلوں کے تجربات کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی مشقوں کےدوران استعمال ہونے والے کروز میزائل'نقدی' بحری بیڑے اور 'برزین' جنگی جہاز سے داغے گئے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 'قادر' کروز میزائل 250 کلو میٹر اور 'قدیر' 300 کلو میٹر تک ہدف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان میزائلوں کو جنگی کشتیوں، ہیلی کاپٹروں اور ساحلی دفاعی نظام کی مدد سے داغا جا سکتا ہے۔

گذشتہ جمعہ سے جاری ایرانی مشقیں آج اتوا ر کواختتام پذیر ہوں‌گی۔ یہ مشقیں مکران سے شروع ہو کر آبنائے ہرمز کے مشرق اور بحر عمان کے شمالی بحر ہند کے 10 مدار میں ختم ہوں گی۔

ایرانی فوج کی یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ امریکا اور مغربی ملکوں‌نے ایران پر کروز میزائلوں پر پابندی کی اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا جا رہا ہے۔