.

الحدیدہ میں از سر نو صف بندی پر عمل درامد آج ہو رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے الحدیدہ میں از سر نوصف بندی کے معاہدے پر آج پیر کے روز عمل درامد کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے اتوار کے روز سمجھوتے پر عمل ملتوی کر دی گیا تھا۔

اس کے ساتھ باغیوں نے الحدیدہ میں اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر کے مشرق میں اور الحدیدہ کے جنوب میں واقع دو ضلعوں حیس اور الدریہمی میں یمنی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا۔

اسی طرح باغیوں نے الحدیدہ صوبے کے ہی دو ضلعوں حیس اور التحیتا میں شہریوں کے گھروں اور رہائشی علاقوں پر بھی گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس گولہ باری کے نتیجے میں کئی یمنی شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ متعدد گھر تباہ ہو گئے اور درجنوں خاندان علاقہ چھوڑ گئے۔

دوسری جانب یمن کی حکومت نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور عالمی ادارہ خوراک کے کردار پر شک وشبے کا اظہار کرتے ہوئے ان پر عدم تعاون کا الزام عائد کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایک بیان میں کہا کہ 'یواین' مانیٹرنگ ٹیم اور عالمی ادارہ خوراک نے الحدیدہ شہر میں جنگ بندی اور سرکاری سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی حکومتی تجویز مسترد کردی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے عالمی ادارہ خوراک سے کہا گیا تھا کہ وہ بحر احمر کے کنارے ذخیرہ کردہ گندم اور آٹے سمیت دیگر امدادی سامان سرکاری فوج کی قائم کردہ گذرگاہوں سے شہریوں تک پہنچانے میں مدد فراہم کرے مگر عالمی ادارہ خوراک نے بھی اس حوالے سے تعاون سے انکار کردیا۔