.

دہشت گردی کو لگام ڈالنے کا وقت آگیا ہے:عبدالفتاح السیسی

ایران اور ترکی خطے میں بے چینی پیدا کررہے ہیں: احمد ابو الغیط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہےکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی دو آفتیں ہیں جن سے خطے اور پوری دنیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا مل کر دہشت گردی کو لگام ڈالے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے سیاحتی مقام 'شرم الشیخ' میں منعقدہ یورپ۔ عرب سربراہ کانفرنس سے خطاب میں صدر السیسی نے کہا کہ عرب اور یورپی ممالک کے بہت سے اہداف اور مقاصد مشترک ہیں۔ دونوں خطوں کے ممالک کو ایک ہی جیسے بحرانوں کا سامنا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے دونوں متاثر ہیں۔ عرب ممالک کو لیبیا، شام ، فلسطین اور یمن تنازعات حل کرنا ہیں۔

اپنے خطاب میں صدر السیسی نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی عرب اور یورپ دونوں کے لیے خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے عرب ممالک اور یورپ کو مزید قربت، ہم آہنگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں عرب۔ یورپ سربراہ کانفرنس میں عالمی قیادت کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ دنیا دہشت گردی کی لعنت سے نجات پانے کے لیے متحد ہے۔

صدر السیسی نے قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کی ضرورت پرزور دیا اور کہا کہ فلسطین کا مسئلہ عرب دُنیا کے لیے پہلا اور مرکزی اہمیت کا حامل تنازع ہے۔ انہوں نے پناہ گزینوں کے مسئلے کےحل اور دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی ایک سے دوسرے ملکوں میں نقل مکانی روکنے کےلیے بھی موثر اقدامات کی ضرورت پرزور دیا۔

اجلاس سے خطاب میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ترکی اور ایران پر عرب خطے میں بے چینی کی لہر پیدا کرنے کی سازش کا الزام عاید کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں۔ تمام قوتوں کو تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور عادلانہ حل تک خطے میں امن استحکام پیدا نہں ہوسکتا۔

اس موقع پریورپی ہائی کمیشن کے سربراہ جونکلوڈ یونکر نے عرب اور یورپی ملکوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اور یورپی ممالک کئی شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھ سکتےہیں۔

شرم الشیخ کانفرنس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے بحر الاحمر اور خلیج عدن میں آبی ٹریفک کو موثر بنانے کے لیے عرب۔ افریقی کونسل کی اہمیت پرروشنی ڈالی۔