.

شرم الشیخ : عرب لیگ اور یورپی یونین کا مشترکہ سربراہ اجلاس ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا کہنا ہے کہ شرم الشیخ میں منعقد ہونے والے سربراہ اجلاس کی کامیابی بہت سے لوگوں کی توقعات سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ عرب اور یورپی قیادت مشترکہ چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

السیسی نے یہ بات مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ میں پیر کے روز عرب لیگ اور یورپی یونین کے پہلے مشترکہ اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مصری صدر نے کہا کہ "اجلاس میں شراکت داری کو گہرا بنانے، تعاون کو مضبوط کرنے اور مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنے کے طریقوں کے حوالے سے جن امور پر اتفاق رائے ہوا ہے ،،، امن کو چاہنے والے عوام اس کا پھل ضرور پائیں گے"۔ السیسی کے مطابق اس سلسلے کا آئندہ سربراہ اجلاس 2022 میں برسلز میں ہو گا۔

سربراہ اجلاس کے اختتامی بیان میں جن امور پر اتفاق رائے ہوا ان میں عرب یورپی شراکت داری کو مضبوط بنانا، ایک حقیقی بین الاقوامی اور کثیر الاطراف نظام کو سپورٹ کرنا، لیبیا کے بحران کو الصخیرات سمجھوتے کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق، یمن میں الحدیدہ میں فائر بندی کے لیے اسٹاک ہوم معاہدے کا خیر مقدم، یمن میں انسانی امداد کے پہنچنے کی اجازت کا دیا جانا، وہاں غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف لڑنا اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون شامل ہے۔

اختتامی بیان میں عرب لیگ اور یورپی یونین کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے سلسلے میں تعاون کرنے، دہشت گرد جماعتوں اور تنظیموں کی سپورٹ کے سُوتوں کو خشک کرنے کے لیے کام کرنے اور نفرت انگیزی اور نسل پرستی پر اکسانے کو روکنے پر بھی زور دیا گیا۔

اختتامی بیان میں ایک بار پھر مشرق وسطی میں امن عمل، اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی ہونے، مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل، مشرق وسطی کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک کرنے اور بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں شام کا بحران حل کرنے سے متعلق مشترکہ مواقف کو دُہرایا گیا۔