.

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے بدکاری کا نیٹ ورک قائم کرنے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایک آن لائن عربی اخبار "المدن" نے بدکاری کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے اور اسے چلانے کے حوالے سے ایک ایسے اسکینڈل کا انکشاف کیا ہے جس نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ساکھ کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک میں حزب اللہ ملیشیا کی سکیورٹی کمیٹی کے ذمے دار کا معاون اور عدالتی پولیس کا ایک کرنل بھی ملوث ہے۔

اخبار کے مطابق مذکورہ دونوں افراد نے بعلبک میں "سکیورٹی کمیٹی" کے دفتر کے نزدیک بدکاری کا ایک اڈہ قائم کیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہیں ہے جب حزب اللہ کے اس طرح کی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ویب سائٹ رپورٹ کے مطابق حزب اللہ ملیشیا جاسوسی کے لیے بدکاری کے اڈے چلاتی ہے۔ اس مقصد کے واسطے نوجوان لڑکیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے جو معلومات کے حصول کے لیے ریاست اور اس کے اداروں کی اہم شخصیات کو جال میں پھنساتی ہیں۔ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اہم شخصیات ان نوجوان لڑکیوں کی شکل میں موجود جاسوسوں کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کی ایک رابطہ ٹیم نے ٹویٹر کے ذریعے لبنان میں بدکاری کے ایک بڑے نیٹ ورک پر روشنی ڈالی تھی۔ اس نیٹ ورک کا انکشاف 2016 میں ہوا تھا اور یہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مالیاتی ذمے دار علی زعیتر کے ساتھ مربوط تھا۔ امریکی وزارت خزانہ نے زعیتر کو 2014 میں حزب اللہ تنظیم کی خریداری کا ایجنٹ شمار کرتے ہوئے اس کا نام دہشت گرد عناصر کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔