.

یک جماعتی اقتدار پر قائم نظام مسترد کرتے ہیں : شامی اپوزیشن رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن کی ایک اہم شخصیت اور نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی (NCC) کے جنرل کوآرڈی نیٹر حسن عبدالعظیم نے ایک بار پھر "یک جماعتی اور یک شخصی اقتدار کی بنیاد پر قائم حکومتی نظام" کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس شرط کو کمیٹی کی پالیسی شقوں میں سے قرار دیا۔ حسن عبدالعظیم 2011 میں این سی سی کی تاسیس کے وقت سے کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

عبدالعظیم شام میں اپوزیشن کے سب سے بڑے بلاک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک طویل ٹیلیفون انٹرویو میں کہا کہ "این سی سی میں بنا کسی امتیاز شامی عوام کے مختلف طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ یہ کمیٹی بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بیرونی مداخلت بالخصوص عسکری مداخلت کو مسترد کرتی ہے ،،، اور اقتدار کی پر امن منتقلی کے ذریعے ایک جمہوری پارلیمانی سویلین نظام کے قیام کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کرتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "این سی سی کی تاسیس میں کئی کرد جماعتیں شریک تھیں اور انہوں نے تاسیسی دستاویز پر دستخط بھی کیے تھے۔ بعد ازاں شمالی عراق میں ایک اجلاس کے بعد ان کی رکنیت معلق ہو گئی جس کے نتیجے میں کرد نیشنل کونسل کی تشکیل عمل میں آئی۔ این سی سی کی تشکیل کے ابتدائی ابتدائی مرحلے میں بعض ارکان اور جماعتیں ملک سے نکل گئیں اور انہوں نے سیرین نیشنل کونسل میں شمولیت اختیار کر لی کیوں وہ ان کے ذاتی مفادات کی تکمیل کے زیادہ قریب تھی"۔

حسن عبدالعظیم شامی دارالحکومت میں اپنی بقا کے موقف پر ابھی تک سختی سے قائم ہیں۔ ان کے نزدیک اپوزیشن پر لازم ہے کہ وہ قوم کے ساتھ ملک کے اندر رہے۔

عبدالعظیم کے مطابق گزشتہ صدی میں 1960 کی دہائی سے لے کر 2011 تک کے عرصے میں وہ آٹھ بار گرفتار ہوئے۔ اس دوران انہیں تین بار عدالتوں میں بھی پیش کیا گیا تاہم انہوں نے کبھی فرار ہونے یا پناہ لینے کے بارے میں نہیں سوچا۔

اپوزیشن لیڈر نے شام سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کو درست سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔ انہوں نے شامی اراضی سے تمام غیر ملکی فورسز کے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔

عبدالعظیم کے نزدیک ترکی کی جانب سے منبج اور فرات کے مشرق میں حملے کی دھمکیاں اسی صورت رک سکتی ہیں اگر کرد انتظامیہ وفاقیت کے منصوبے سے پیچھے ہٹ جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف شام کا مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی مسئلہ ہے جس میں عراق، ترکی اور ایران شامل ہیں۔ اس امر سے ترکی کی مداخلت کے حیلے کا اختتام ہو گا، یہ اراضی اور عوام کے حوالے سے شام کی کی یک جہتی کا تحفظ کرے گا، جنیوا مذاکرات 1 اور اقوام متحدہ کی قرار داد 2254 کے مطابق مذاکراتی اور سیاسی حل کو سپورٹ کرے گا، شامی عوام اور اپوزیشن کی انقلابی قوتوں کا اعتماد بحال کرے گا اور نیشنل کوآرڈی نیشن کونسل کے ساتھ بات چیت کے امکان کو مضبوط بنائے گا۔

واضح رہے کہ این سی سی شام میں کردوں کے معاملے کو ایک "قومی معاملہ" مانتی ہے۔