.

جرائم میں ملوث'داعشی' جنگجووں کو پھانسی دی جائے گی: برھم صالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صدر برھم صالح نے سوموار کے روز کہا کہ 'داعش' کی صفوں میں شامل ان عناصر کو سزائے موت دی جائے گی جن کے خلاف عدالتوں میں مقدمات کے دوران جرائم کے ثبوت فراہم کیے گئے ہوں گے۔

گذشتہ روز فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں عراقی صدر کا کہنا تھا کہ شام میں 'داعش' کی صفوں میں لڑنے والے 13 فرانسیسی جنگجووں کے خلاف عراق کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ اگر عدالتوں نے ان کی سزائے موت کافیصلہ دیا تو حکومت ان سزائوں کی توثیق کرےگی۔

ایک سوال کے جواب میں صدر برھم صالح کا کہنا تھا کہ حال ہی شام میں کرد فورسز نے 'داعش' کے گرفتار جنگجووں کو عراقی فوج کے حوالے کیا ہے۔ ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور انہیں عراق کے قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں جرائم اور دہشت گردی میں‌ملوث غیرملکیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا ہمیں حق حاصل ہے اور عالمی قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'داعش' کے معاملے میں کسی قسم کی سودے بازے نہیں کی جائے گی۔ جو لوگ عراقی قوم کے خلاف جرائم اور تشدد میں‌ ملوث پائے جائیں گے انہیں عراق کی عدالتوں میں مقدمات اور سزاوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس موقع پر فرانسیسی صدر نے کہا کہ دہشت گردی میں‌ ملوث عناصر کے خلاف عدالتی کارروائی خود مختار ممالک کا حق ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک میں مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کو سفارت خانوں کی طرف سے سفارتی تحفظ فراہم کی جاسکتی ہے۔

ایک سوال میں فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ عراق آنے والے مہینوں میں مزید مضبوط ہوگا اور پیرس عراق کی تعمیر نو میں بھرپور مدد فراہم کرے گا۔