.

بشار الاسد کے تہران کے دورے کی تفصیلات اور قاسم سلیمانی کا کردار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی جاب سے پیر 25 فروری کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانے کی وجوہات کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

اس حوالے سے بعض قیاس آرائیوں اور تجزیوں نے کئی اسباب کی جانب اشارہ کیا ہے جنہوں نے جواد کو وزارت خارجہ سے رخصت ہونے پر مجبور کر دیا۔

اس سلسلے میں باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ (فارسی) کو بتایا کہ شامی صدر بشار الاسد کے تہران کے دورے نے ظریف کو چراغ پا کر دیا کیوں کہ انہیں اس دورے کا علم ہی نہیں تھا۔ بالخصوص ایرانی وزیر خارجہ نے ٹیلی وژن اسکرین کے ذریعے بشار الاسد کی ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی سے ملاقاتیں دیکھیں۔ اس امر نے جواد کا غصہ بھڑکا دیا۔ انہوں نے رات ہی میں فیکس کے ذریعے روحانی کو اپنا استعفا ارسال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

دوسری جانب مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کا تہران کا دورہ ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرونی ونگ سپاہ قدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی دعوت پر کیا گیا۔ دورے کا مقصد شام کے بحران میں علی خامنہ ای کی جانب سے شامی حکومت کی سپورٹ کا شکریہ ادا کرنا تھا۔

طے شدہ پروگرام کے مطابق بشار الاسد کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر صرف تین ایرانی عہدے داران سے ملاقات کرنا تھی جن کو اس دورے کا علم تھا۔ یہ شخصیات قاسم سلیمانی ، علی خامنہ ای اور خامنہ کے دفتر کے سربراہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے بعد قاسم سلیمانی نے دورے کی تصاویر جاری کرنے کی اجازت دے دی مگر ساتھ ہی یہ درخواست کی کہ اس دورے کی خبر بشار کے دمشق لوٹ جانے کے بعد نشر کی جائے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ "بشار کے واپس ایئرپورٹ جانے سے تقریبا ایک گھنٹہ قبل سلیمانی نے تجویز پیش کی کہ صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کر لی جائے۔ روحانی کو شامی صدر کے تہران کے دورے کا علم نہیں تھا۔ ایرانی صدر وزارت تعاون کا دورہ کر رہے تھے جس کے دوران انہیں فوری طور پر ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس پر روحانی نے اپنا دورہ ختم کیا اور تیزی سے دفتر واپس آ گئے"۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ ملاقات ہنگامی طور پر بنا کسی سفارتی پروٹوکول کے انجام پائی۔ اسی وجہ سے ایرانی صدر کے دفتر میں شامی پرچم بھی نہیں لگایا جا سکا۔

روحانی اور بشار کے درمیان بات چیت عمومی موضوعات اور شام میں تعمیر نو کی ضرورت تک محدود رہی۔