.

داعش کی قید میں 50 یزیدی خواتین،ذبح،دیگر یرغمالیوں کی زندگی بھی خطرے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ شدت پسند گروپ'داعش' کی جانب سے قید کی گئی یزیدی قبیلے کی سیکڑوں خواتین میں سے 50 کو ذبح کردیا گیا ہے جب کہ باقی یرغمالی خواتین کی زندگی بھی خطرے میں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں انسانی حقوق ہائی کمیشن نے داعش کی قید میں موجود خواتین میں سے 50 کو قتل کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ انسانی حقوق ہائی کمیشن نے عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ 'داعش' کی قید میں‌موجود باقی یزیدی خواتین کی زندگی بچانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔

انسانی حقوق ہائی کمیشن کے رکن عامر بولص نے ایک بیان میں کہا کہ اس امر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ داعش نے گذشتہ برس کے آخرمیں 50 داعشی خواتین کے سرقلم کردیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ 'داعش' کا یزیدی قبیلے کے خلاف مسلسل جرائم میں ایک نیا جرم ہے کیونکہ داعش نے بے گناہ خواتین کو موت کےگھاٹ اتارا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یزیدی عورتوں کو شمالی شام کے علاقے الباغوز میں قتل کیا گیا۔ وہاں سے عالمی اتحادی فوج کو ان کی لاشیں ملی ہیں۔ اس واقعے کے بعد اب عراقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ 'داعش' کی قید میں موجود دیگر خواتین کو زندگی بچانے کے لیے فوری حرکت میں آئے۔ انسانی حقوق ہائی کمیشن نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی پر زور دیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس اور مسلح‌افواج کے سربراہ کی حیثیت سے داعش کی قید میں موجود دیگر یزیدی خواتین کی بازیابی کے لیے احکامات صادر کریں۔

بولص نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں سے بھی داعش کی قید میں موجود خواتین کو بازیاب کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کامطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یزیدی فرقے کے 3 ہزار مردو خواتین داعش کی قید میں ہیں۔ ان میں‌بڑی تعداد میں خواتین ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں داعش کی طرف سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر عالمی اتحادی فوج نے اپنے فضائی حملے جاری رکھے تو وہ یزیدی قبیلے کی یرغمال بنائی گئی خواتین کو ہلاک کردیں گے۔ بعد ازاں دسمبر کے آخر میں ان میں سے 50 خواتین کو قتل کردیا گیا تھا۔ داعشی جنگجو یزیدی قبیلے کی خواتین کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ جنسی جرائم کے بھی مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے داعش پر یزیدی قبیلے کے خلاف وحشیانہ جنگی جرائم میں ملوث ہونے اور ان کے اجتماعی قتل عام کا الزام عاید کیا ہے۔ 'داعش' نے 2014ء کے دوران عراق کے شہر سنجار میں حملہ کرکے یزیدی قبیلے کے سیکڑوں مردو خواتین اور بچوں‌کو یرغمال بنا لیا تھا۔