.

یورپی قیادت مشرق وسطی میں ایران کی عدم مداخلت کی خواہش مند ہے : مصری وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے باور کرایا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے پر سختی سے کاربند یورپی قیادت اس بات کی خواہش مند ہے کہ مشرق وسطی کے ممالک میں ایرانی مداخلتوں کا سلسلہ رک جانا چاہیے۔

منگل کی شام العربیہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں شکری کا کہنا تھا کہ شرم الشیخ میں عرب لیگ اور یورپی یونین کے مشترکہ اجلاس کے اختتامی بیان میں عرب ممالک کے امور میں عدم مداخلت کی ضمانت سے متعلق پیراگراف شامل نہ ہونے کی وجہ وقت کی تنگی یا پھر شاید اس موضوع پر یورپی ممالک کے درمیان عدم موافقت تھی۔

سعودی عرب ، امارات اور بحرین نے اختتامی بیان میں مذکورہ موقف شامل نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

مصری وزیر خارجہ کے مطابق انسداد دہشت گردی کا مطالبہ کرنے والے چاروں ممالک نے قطر کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔

یاد رہے کہ عرب یورپی سربراہ اجلاس کے اختتامی بیان میں میں جن امور پر اتفاق رائے ہوا ان میں عرب یورپی شراکت داری کو مضبوط بنانا، ایک حقیقی بین الاقوامی اور کثیر الاطراف نظام کو سپورٹ کرنا، لیبیا کے بحران کو الصخیرات سمجھوتے کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق، یمن میں الحدیدہ میں فائر بندی کے لیے اسٹاک ہوم معاہدے کا خیر مقدم، یمن میں انسانی امداد کے پہنچنے کی اجازت کا دیا جانا، وہاں غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف لڑنا اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون شامل ہے۔

اختتامی بیان میں عرب لیگ اور یورپی یونین کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے سلسلے میں تعاون کرنے، دہشت گرد جماعتوں اور تنظیموں کی سپورٹ کے سُوتوں کو خشک کرنے کے لیے کام کرنے اور نفرت انگیزی اور نسل پرستی پر اکسانے کو روکنے پر بھی زور دیا گیا۔

اختتامی بیان میں ایک بار پھر مشرق وسطی میں امن عمل، اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی ہونے، مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل، مشرق وسطی کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک کرنے اور بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں شام کا بحران حل کرنے سے متعلق مشترکہ مواقف کو دُہرایا گیا۔