.

بشار الاسد پروٹوکول سے ہٹ کر ایرانی وزیر خارجہ کو منانے میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آ رہا ہے کہ پیر کی شب ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظريف کا استعفا "اپنا کام کر گیا" اور اس اقدام نے اندرون اور بیرون ملک حلیفوں کو ظریف کو راضی کرنے پر مجبور کر دیا۔

ذرائع نے بدھ کے روز العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا تھا کہ جواد ظریف کے مستعفی ہونے کی اہم ترین وجہ انہیں بشار الاسد کے دورے کے پروگرام کی اطلاع نہ دینا اور شامی صدر سے ملاقات نہ ہونا ہے۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب کی سپاہ قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے اقرار کیا ہے کہ ظریف کی عدم موجودگی غیر دانستہ غلطی تھی۔ شام کے صدر بشار الاسد نے بھی استثنائی پروٹوکول کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کو دمشق ے دورے کی دعوت دے ڈالی۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیر خارجہ کا استعفا مسترد کر دیا تھا۔ روحانی نے جوابی خط میں ظریف کے گن گاتے ہوئے انہیں بہادر اور موقف پر سختی سے ڈٹ جانے والا قرار دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کا تہران کا دورہ ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرونی ونگ سپاہ قدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی دعوت پر کیا گیا۔ دورے کا مقصد شام کے بحران میں علی خامنہ ای کی جانب سے شامی حکومت کی سپورٹ کا شکریہ ادا کرنا تھا۔

طے شدہ پروگرام کے مطابق بشار الاسد کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر صرف تین ایرانی عہدے داران سے ملاقات کرنا تھی جن کو اس دورے کا علم تھا۔ یہ شخصیات قاسم سلیمانی ، علی خامنہ ای اور خامنہ کے دفتر کے سربراہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے بعد قاسم سلیمانی نے دورے کی تصاویر جاری کرنے کی اجازت دے دی مگر ساتھ ہی یہ درخواست کی کہ اس دورے کی خبر بشار کے دمشق لوٹ جانے کے بعد نشر کی جائے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ "بشار کے واپس ایئرپورٹ جانے سے تقریبا ایک گھنٹہ قبل سلیمانی نے تجویز پیش کی کہ صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کر لی جائے۔ روحانی کو شامی صدر کے تہران کے دورے کا علم نہیں تھا۔ ایرانی صدر وزارت تعاون کا دورہ کر رہے تھے جس کے دوران انہیں فوری طور پر ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس پر روحانی نے اپنا دورہ ختم کیا اور تیزی سے دفتر واپس آ گئے"۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ ملاقات ہنگامی طور پر بنا کسی سفارتی پروٹوکول کے انجام پائی۔ اسی وجہ سے ایرانی صدر کے دفتر میں شامی پرچم بھی نہیں لگایا جا سکا۔