.

جیرڈ کوشنر کا سعودی عرب کی قیادت سے مشرقِ اوسط امن عمل پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر نے سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میں مشرقِ اوسط امن عمل کی بحالی کے لیے اپنے مجوزہ منصوبے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق انھوں نے ماضی کی بات چیت کی بنیاد پر امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعاون اور ٹرمپ انتظامیہ کی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے کوششوں کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

امریکا کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ اور ایران کے لیے خصوصی ایلچی برائن ہُک بھی کوشنر کے ہمراہ تھے۔ جیرڈ کوشنر ان دنوں خطے کے ملکوں کے دورے پر ہیں ۔انھوں نے سعودی عرب سے قبل اسی ہفتے متحدہ عرب امارات ، بحرین اور اومان کی قیادت سے اپنے مجوزہ امن منصوبے پر بات چیت کی تھی اور بدھ کو ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی تھی۔

جیرڈ کوشنر نے فروری کے وسط میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ممالک کو امریکا کے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مجوزہ امن منصوبے کے بارے میں بتایا تھا۔وہ اسرائیل میں اپریل میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد اس منصوبے کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔

فلسطینیوں نے مشرقِ اوسط میں قیام امن کے حوالے سے وارسا میں منعقدہ اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا اور اس کو ’’ امریکی سازش ‘‘ قرار دیا تھا جس کا مقصد ان کے بہ قول فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو جائز بنانا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دسمبر 2017ء میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد سے فلسطینی قائدین ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کرتے چلے آرہے ہیں۔

اس کے ردعمل میں ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف مرحلہ وار تعزیری اقدامات کیے ہیں اوراس کے لیے کروڑوں ڈالرز کی سالانہ امداد بند کردی ہے۔اس کے علاوہ امریکا نے اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے ادارے اُنروا کی بھی سالانہ امداد بند کردی ہے۔