.

لبنان : حزب اللہ کا بدکاری نیٹ ورک میں ملوث اپنے اہل کار کو حوالے کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں چند روز قبل سامنے آنے والے بدکاری نیٹ ورک اسکینڈل کے حوالے سے پس پردہ پیش رفت جاری ہے۔ تاہم اس میں ملوث عناصر کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ معاملے کو میڈیا میں زیر گردش آنے سے دور رکھا جائے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق اسکینڈل میں حزب اللہ ملیشیا کی سکیورٹی کمیٹی کے ذمے دار کا معاون اور عدالتی پولیس کا ایک کرنل ملوث ہے۔ یہ دونوں افراد لبنان کے مشرقی شہر بعلبک میں سرگرم بدکاری کا ایک نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ بعلبک میں "سکیورٹی کمیٹی" کے دفتر کے نزدیک قائم اس اڈے کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے لبنانی اور شامی نوجوان خواتین (زیادہ تر مطلقات) کو استعمال کیا جا رہا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل خصوصی معلومات کے مطابق حزب اللہ ملیشیا اپنی سکیورٹی کمیٹی کے ذمے دار کے معاون کو حراست میں لے کر اس سے مسلسل پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تاہم ملیشیا نے اسے لبنان کے سرکاری سکیورٹی حکام کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام نے براہ راست تحقیقات کے واسطے مذکورہ شخص کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

لبنان میں داخلہ سکیورٹی فورسز کے جنرل ڈائرکٹوریٹ نے ایک بیان میں بعلبک شہر میں بدکاری کے نیٹ ورک کی خبر اور اسکینڈل میں ملوث سرکاری افسر کے حراست میں لیے جانے کی تردید کر دی ہے۔ تاہم العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی معلومات کے مطابق عدالتی پولیس کا کرنل ابھی تک لبنان کے محکمہ اطلاعات کی حراست میں ہے اور اس کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں۔

معلومات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسکینڈل کے انکشاف اور بعلبک میں بدکاری کے اڈے کے بند کیے جانے کے اس نیٹ ورک میں شامل خواتین شہر سے باہر فرار ہو چکی ہیں۔

حزب اللہ کا گڑھ شمار ہونے والے شہر بعلبک کے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ بدکاری کے جس نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے وہ اس شیعہ ملیشیا کی سرپرستی میں چل رہا تھا۔

اس سے قبل حزب اللہ کے بارے میں منشیات بالخصوص "کیپٹاگون" کی گولیوں سے متعلق دھماکا خیز اسکینڈل منظر عام پر آ چکا ہے۔ اس تجارت نے "حزب الله" کی تجوریوں میں کروڑوں ڈالر (حزب اللہ کی آمدنی کا 70% سے زیادہ) بھر دیے۔ اس بات کا انکشاف امریکی ادارہ برائے انسداد منشیات نے کیا تھا۔