.

یمن : حوثی ملیشیا کی حجور قبائل کے خلاف انتقامی کارروائی اور شہریوں کا محاصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمال مغربی صوبے حجہ میں حوثی ملیشیا نے حجور قبائل کے علاقوں کے زیر انتظام ضلعوں میں گولہ باری میں اضافہ اور شہریوں کے محاصرے کو سخت کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت حجور قبائل کے علاقوں پر دھاوا بولنے کی کوشش میں کئی ہفتوں سے مسلسل ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔

ادھر یمن میں بے گھر افراد کے امور سے متعلق انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ حجور ریجن کے زیر انتظام کشر اور دیگر ضلعوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے محاصرہ جاری رہنے کے سبب انسانی صورت حال ابتر ہو رہی ہے۔

حکومتی یونٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے مذکورہ ضلعوں کا سخت محاصرہ کر کے وہاں خوراک اور طبی مواد داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ ساتھ ہی دیہات اور رہائشی علاقوں پر گولہ باری کو بھی شدید کر دیا ہے۔ اس کے سبب مقامی آبادی نقل مکانی کا سہارا لے رہی ہے۔

بدھ کے روز جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشر ضلع میں 1669 خاندان اطراف کے دیہات میں نقل مکانی کر گئے ہیں۔ ان افراد کو اسکولوں ، گھروں اور پہاڑی علاقوں میں ٹھکانہ دیا گیا ہے۔ مزید برآں حوثیوں کی جانب سے محاصرہ سخت کرنے سے قبل 1340 یمنی خاندانوں نے پڑوس کے تین ضلعوں خیران المحرق، اسلم اور عبس کے علاوہ عمران صوبے کی جانب رخ کیا۔

رپورٹ کے مطابق 3 ہزار خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو کر ٹھکانوں کے بغیر ہو گئے۔ ان میں بعض نے انتہائی ابتر حالت میں اسکولوں میں پناہ لی ہے جہاں دس میٹر لمبے اور 6 میٹر چوڑے کمرے میں 4 سے 6 خاندانوں نے قیام کیا ہوا ہے۔

حجور میں بسنے والے 1.41 لاکھ سے زیادہ افراد کو محاصرے اور قبائل کی حوثی ملیشیا کے ساتھ جھڑپوں کے سبب غذا کا بڑا بحران درپیش ہے۔ مقامی دکانوں سے آٹا، دودھ اور تیل مکمل طور سے غائب ہو چکا ہے۔ محاصرہ جاری رہنے کی صورت میں قحط کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

حجور قبائل کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کئی ہفتوں سے جاری کوشش میں ناکامی کے بعد حوثی ملیشیا محصور قبائلیوں اور دیہات میں رہائشی علاقوں کو ہر طرف سے اندھادھند گولہ باری کا نشانہ بنا رہی ہے۔ سا دوران مختلف ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔