.

سعودی عرب، امریکا اور اسرائیل کو تباہ کرنے سے متعلق ایرانی گیڈر بھبکی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سعودی عرب، امریکا اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک کبھی شکست تسلیم نہیں کرے گا۔

پاسداران انقلاب کے سینئر ڈپٹی چیف بریگیڈئر جنرل حسین سلامی نے ان خیالات کا اظہار ایک تقریر میں کیا، جو انہوں مبینہ طور پر نے اپنی فوج پر ہونے والے خودکش کار بم حملے سے ایک روز قبل یعنی 19 فروری کو کی تھی۔ متذکرہ خودکش حملے میں پاسداران انقلاب کے 27 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

بریگیڈیئر جنرل سلامی نے مزید کہا کہ ’’ہم نے جنگ کے لئے کمر کس لی ہے۔ ہم دشمنوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ انہیں کسی قیمت پر نہیں چھوڑا جائےگا۔ سعودی حکومت جان لے، کہ وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔‘‘

پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے گذشتہ ماہ ہونے والے حملے کا سعودی عرب اور امارات سے بدلہ لینے کی بھی دھمکی دی تھی۔یاد رہے ایران اور پاکستان کی سرحد کے قریب سرگرم سنی عسکریت پسند تنظیم جیش العدل نے پاسداران انقلاب پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بریگیڈئیر جنرل سلامی کے بہ قول امریکا کی ’’پریشانی کے بعد دنیا میں اس کا سپر پاور ہونے کا دعوی مشکوک ہو گیاہے۔ امریکا کو بھی شکست ہو چکی ہے۔اسرائیل نفیساتی جنگی حربوں کے ذریعے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔‘‘ بریگیڈیئر جنرل حسن سلامی نے اپنی تقریر کے مخاطب دستوں پر زور دیا کہ ’’وہ آگے بڑھیں کیونکہ ہمارے دشمن بے دست وپا ہو کر تتر بتر ہو رہے ہیں۔‘‘

’’ہماری جنگ مقامی نہیں، عالمی ہے‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم [دشمن کے خلاف] ایک جگہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر لڑیں گے۔ ہماری جنگ مقامی نہیں۔ ہم عالمی طاقتوں کو شکست فاش دینا چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ ایران کو اپنی میزائل صلاحیت کو بڑھوتری دینے سے روکنے کے لئے گذشتہ ماہ یورپ نے تہران پر دباو ڈالا تھا، جس پر جنرل سلامی نے انہیں بھی سخت سست انداز میں ایسے مطالبات سے باز رہنے کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’تہران اپنی ضرورت اور تبدیل ہوتی ہوئی دفاعی حکمت کی روشنی میں اپنے میزائیلوں کی رینج بڑھانے کے منصوبے پر کام کرتا ہے۔‘‘