.

سعوی عرب میں 'موسیقی' انسٹیٹیوٹ' کے قیام پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کےچیئرمین ترکی آل الشیخ نے کہاہے کہ وہ مملکت میں 'موسیقی' کے فروغ کے لیے ایسے ادارے قائم کرنے پرغور کررہےہیں جن میں باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی آل الشیخ نے ان خیالات کا اظہار دارالحکومت الریاض میں قائم شاہ فہد کلچرل سینٹر میں منعقدہ ایک 'نائیٹ میوزیکل شو' کے موقع پر فن کاروں اور موسیقاروں سے ملاقات کے دوران کیا۔

شاہ فہد کلچرل سینٹر میں ہونے والے موسیقی پروگرام میں 15 سعودی ستاروں نے شرکت کی اور سعودی عرب میں موسیقی کی 50 سال پرانی یاد تازہ کی گئی۔ سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کی طرف سے فن کاروں کا خصوصی اعزازو اکرام کیا گیا۔ اس موقع پر سعودی فن کاروں نے مرحوم گلو کار ابو بکر سالم بلفقیہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پروگرام میں ابو بکر سالم 'ما علینا' کا نغمہ ھولو گرام کے ذریعے پیش کرکے 50 سال پرانی یاد تازہ کی گئی۔

پروگرام میں سعودی موسیقار احمد فتحی کی 'ظبی الیمن' کی ریکارڈنگ سنائی گئی۔ اس کے بعد مطرف المطرف نے 'دون یا قلم'، فواد عبدالواحد نے 'خنجر یمانی'، نبیل شعیل نے 'مشکل فی الناس'، علی بن محمد نے 'شون حال الربع' ،رابح صقر نے 'عادک الا صغیر' نے اپنی خوبصورت دھن میں پیش کیا۔ اس کے بعد مرحوم ابوبکر سالم کا ھولوگرام کے لیے ایک نغمہ پیش کیا گیا جس کے بعد گلوکار عبدالرب ادریس نے 'سر حبی فیک غامض' پیش کیا۔ تقریب میں دیگر فن کاروں عبداللہ الرویش، محمد عبدہ، عبادی الجوھر، ابو بکرسالم کے صاحبزادے اصیل ابو بکر اور دیگرنے بھی موسیقی کے فن کے جوہر دکھائے۔

پروگرام میں انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی آل الشیخ نے ابو بکر سالم کے صاحبزادے کا خصوصی اکرام کیا گیا۔ انہوں‌نے کہا کہ وہ ملک میں موسیقی کے فروغ کے لیے 'میوزیکل انسٹیٹیوٹ' قائم کرنے پرغور کررہےہیں۔