.

ایران نے بدستور دہشت گردی کی سپورٹ کی روش اپنا رکھی ہے: الجبير

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بغاوت کا سلسلہ جاری رہنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں اور سویڈن معاہدے کے لیے حمایت پر مبنی موقف کو دہرایا۔

امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کی وزارتی سطح کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الجبیرنے باور کرایا کہ عرب لیگ 1967 کی سرحدوں پر ایک خود مختار ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو، اس کے قیام سے متعلق فلسطینیوں کے حق کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے اپنے موقف پر ثابت قدم ہے۔

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی اس وقت دنیا کو درپیش اہم ترین چیلنجوں میں سے ہیں۔

الجبیر نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے اور اس کے سوتوں کو خشک کرنے کے لیے تعاون کو بڑھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران دیگر ممالک کے امور میں مداخلت اور دہشت گردی کی سپورٹ کے حوالے سے اپنی روش پر قائم ہے۔

دوسری جانب یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے ایران پر زور دیا کہ وہ او آئی سی کے اصولوں کی پاسداری کرے اور ہتھیاروں اور مال کے ذریعے حوثی ملیشیا کی سپورٹ روک دے تا کہ خطے کا امن عدم استحکام سے دوچار نہ ہو۔

وزارتی سطح کی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے الیمانی نے کہا کہ سویڈن معاہدے کو طے پائے ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور باغی عناصر ان سمجھوتوں پر عمل درامد میں ابھی تک ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ یہ لوگ انخلا کے بنیادی اصول اور انسانی امداد کی راہ داریوں کو کھولنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اقوم متحدہ کے عمل میں بھی رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

یمنی وزیر نے باور کرایا کہ ان کی حکومت سویڈن سمجھوتے کے نتیجے میں سامنے آنے والے امور پر عمل درامد میں ناکامی کا اقرار نہیں کرے گی۔ اس لیے کہ ناکامی کی صورت میں ملک الحدیدہ میں جنگ کے مربع میں واپس چلا جائے گا۔