.

ترکی: ایردوآن کی جماعت میں با اثر شخصیات کے زیر قیادت انحراف کی تحریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں مختلف حلقوں میں حکمراں جماعت کے اندر انحراف اور انتشار کی مہم پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ اس مہم کی قیادت اُن شخصیات کے ہاتھوں میں ہے جو ماضی میں جماعت کے اندر اپنا نفوذ اثر رسوخ رکھتی تھیں۔

ان شخصیات کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدام ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے پیروکاروں کے غلبے اور جماعت اور ریاست کی قیادت میں جانب دارانہ پالیسی کے خلاف احتجاجا عمل میں لایا جا رہا ہے۔

انحراف کی تحریک کی قیادت سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے ہاتھوں میں ہے۔ طویل خاموشی کے بعد یہ دونوں شخصیات صدر ایردوآن کے غلبے کے مخالف کیمپ میں شامل ہو چکے ہیں۔

مقامی حلقوں کے مطابق اس سے قبل جماعت میں اثر و رسوخ کے حامل دیگر افراد بھی اںحراف کے راستے پر گامزن ہو چکے ہیں۔ ان میں سابق وزیر خارجہ بابا جان اور وزیراعظم کے سابق نائب برائے اقتصادی امور محمد شیمشک شامل ہیں۔ ان افراد نے ایک نئی جماعت کی تاسیس میں پہل کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت "جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی" کی اصل روح کی حامل ہو گی جب کہ موجودہ جماعت کو ایردوآن نے اپنی سربراہی کی خدمت کے لیے قبضے میں لے لیا ہے۔

انحرافی تحریک کی جانب سے صدر ایردوآن پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ پارٹی اور ریاست کے اوپر براجمان ہو کر جانب دارانہ سربراہی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ترک صدر صرف اپنے مخالفین کو ہی نہیں بلکہ حامیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ترکی ویب سائٹ "احوال تركی" کے مطابق ایردوآن پارٹی کے حامیوں کو اپنی آراء اور مواقف کے اظہار کا موقع نہیں دے رہے۔ علاوہ ازیں جوں ہی یہ حامی عناصر اقتدار میں موجود حلقوں کی جانب سے کھینچی گئی لکیر کو پار کرتے ہیں اسی لمحے ان کی سرزنش کا فیصلہ عمل میں آ جاتا ہے۔

ایردوآن نے 2014 میں احمد داؤد اوغلو کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ ترکی کے صدر ہر اس شخص کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں جس پر لوگوں کا اعتماد ہے اور وہ پارٹی کے اندر اہلیت کا حامل ہے۔

اس وقت ایردوآن کو یہ تشویش لاحق ہے کہ آئندہ سامنے آنے والی جماعت جس کی سربراہی بابا جان کریں گے، وہ متوقع طور پر 31 مارچ کو مقررہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے گی۔ ایردوآن کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ ان کی جماعت کے دیگر افراد بھی انحراف کی اس کشتی میں سوار ہو سکتے ہیں۔