.

حوثی ملیشیا الحدیدہ معاہدے پر عمل درامد کی راہ میں آڑے آ رہی ہے: جنرل لولزگارڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شہر الحدیدہ میں نئی صف بندی سے متعلق رابطہ کار کمیٹی کے سربراہ جنرل مائیکل لولزگارڈ کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا الحدیدہ اور بندرگاہوں میں نئی صف بندی کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔

مذکورہ کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں لولزگارڈ نے باور کرایا کہ وہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو آگاہ کریں گے اور ایک خط میں ان نکات کو واضح کریں گے جن کی بنیاد پر حوثی الحدیدہ سے متعلق معاہدے پر عمل درامد میں ٹال مٹول کا کر رہے ہیں۔

یمنی میڈیا کے ذرائع کے مطابق جنرل لولزگارڈ کا یہ بیان یمنی حکومتی ٹیم کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اقوام متحدہ کے سینئر مبصرین سے کہا گیا تھا کہ الحدیدہ میں نئی صف بندی کے حوالے سے پہلے مرحلے کے اولین اقدام پر حوثیوں کی جانب سے عمل درامد نہ کیے جانے کو واضح کیا جائے۔

نئی صف بندی سے متعلق منصوبے کے پہلے مرحلے پر پیر کے روز عمل کیا جانا تھا۔ اس دوران حوثی ملیشیا کو الصلیف اور راس عیسی کی بندرگاہوں سے انخلا کے بعد 5 کلو میٹر کی دوری پر چلا جانا تھا۔ تاہم حوثیوں کی ہٹ دھرمی نے اقوام متحدہ کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

یمنی وزیر خارجہ اور امن مشاورت میں حکومتی وفد کے سربراہ خالد الیمانی نے جمعے کے روز اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ "فوری طور پر اس فریق کا تعین کیا جائے جو الحدیدہ معاہدے پر عمل درامد کو مسترد کر رہا ہے"۔

یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق الیمانی نے معاہدے کے ناکام ہونے کی ذمے داری حوثیوں پر عائد کی۔ انہوں نے باور کرایا کہ "یمنی حکومت اپنی فورسز کے زیر کنٹرول محفوظ ساحلی راستے کے ذریعے بحر احمر پر واقع فلور ملوں سے غذائی مواد نکالے جانے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم حوثی ملیشیا معاہدے کی پاسداری سے بدستور انکار کرتے ہوئے یمن میں انسانی المیے کو سنگین تر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی ٹیم نئی صف بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی ٹیم کے سربراہ کو متعدد پیغامات ارسال کر چکی ہے"۔