.

شام: الباغوز سے نقل مکانی کرنے والوں کی 'العربیہ' سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کی جانب سے دیر الزور میں 'داعش' کے آخری گڑھ الباغوز سے شہریوں کے انخلاء کی مہلت ختم کرتے ہوئے داعش کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب نقل مکانی کرنے والے شہریوں نے 'العربیہ' چینل کے ساتھ گفتگو کی۔ نقل مکانی کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ الباغوز میں اب بھی شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کی منتظر ہے۔ ان شہریوں کو شمالی شام میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جن میں 'داعشی' جنگجوئوں کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مقامی شہریوں نے بتایا کہ الباغوز میں بڑی تعداد میں عام شہری موجود ہیں۔

ایک شخص نے بتایا کہ ڈرون حملے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ انتہا پسند تنظیم 'داعش' کی صفوں میں کئی ملکوں کے جنگجو موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الباغوز میں بچوں کے لیے دودھ، خوراک اور دیگر اشیاء کی فی الحال کوئی کمی نہیں۔ داعش میں فرانس، ترکی اور یورپی ملکوں کے جنگجو بھی شامل ہیں۔