ملک کے بگڑتے حالات "راکھ کے نیچے چنگاری ہیں ": ایرانی دانش ور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے اصلاح پسند دانشور صادق زیبا کلام کا کہنا ہے کہ ایران میں 2018 کے واقعات معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان ملک کے بگڑتے معاشی حالات کے خلاف وسیع بے چینی اور عدم اطمینان کی عکاسی کرتے ہیں۔ صادق نے اس صورت حال کو "راکھ کے نیچے چنگاری" قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تہران پر عائد پابندیاں آنے والے سال کو ایران کے لیے مشکل بنا دیں گی۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ سال کی طرح ایک بار پھر ایرانی عوام سڑکوں پر احتجاج کے لیے باہر آ سکتے ہیں۔

ایرانی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ ملک میں مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ کنزیومر پرائس انڈیکس میں گزشتہ مہینوں کی نسبت 42.3% کا اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ توقع ہے کہ رواں سال میں ایران میں کام کرنے والوں کی اجرتوں میں صرف 20% کا اضافہ ہو گا۔

ایرانی دانش ور نے اخباری ویب سائٹ "سلام نو" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2009 کے انتخابات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ معاشرے کی سطح پر قدامت پسندوں کی پالیسیوں پر شدید عدم اطمینان پیدا ہوا ہے۔ سال 2018 کے واقعات میں عوامی طاقت بنیاد پرستوں کے خلاف بڑی طاقت بن کر ابھری۔

دوسری جانب تہران میں لیبر کونسلز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن علی رضا فتحی کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ورکروں کے حقیقی معاشی حالات کا ادراک کرے نہ کہ سرکاری اعداد و شمار پر انحصار کر کے مطمئن بیٹھی رہے۔

ادھر ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر حسام الدین آشنا نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں عوامی احتجاج کی لہر ایک بار پھر بھڑک سکتی ہے کیوں کہ سابقہ مظاہروں کی وجوہات اب بھی جوں کی توں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس ایران کے 160 سے زیادہ شہروں میں ہزاروں شہری ملک میں مہنگائی، ابتر معاشی حالات اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اقتصادی نظام کی بہتری کے لیے شروع ہونے والے مظاہروں نے نے جلد ہی سیاسی رنگ اختیار کر لیا اور احتجاج کنندگان نے حکومت کے سقوط کا مطالبہ کر دیا۔

مظاہروں کے دوران درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں