.

اساتذہ کی بین الاقوامی گرانٹ ہتھیانے کے لیے متعلقہ فہرستوں میں حوثیوں کی ہیرا پھیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں مقامی اساتذہ نے شکایت کی ہے کہ حوثی ملیشیا یونیسف تنظیم کے ذریعے پیش کی جانے والی سعودی گرانٹ کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ یہ گرانٹ دو سال سے زیادہ عرصے سے تنخواہوں سے محروم اساتذہ کو مالی منفعت پہنچانے کی کوشش ہے۔

یمن کے وسطی صوبے ذمار میں یمنی اساتذہ کا کہنا ہے کہ سینئر ہونے کے باوجود انہیں اس گرانٹ سے محروم کر دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر گرانٹ کی فہرستوں میں ان سینئر اساتذہ کے نام موجود نہیں اور ان کی جگہ حوثی ذمے داران نے نئے ناموں کو شامل کر دیا۔ یہ نئے نام اُن اساتذہ کے بدلے شامل کیے گئے ہیں جو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سلسلہ طویل ہونے کے بعد اپنے گھر والوں کے لیے روزی کی تلاش میں اپنے علاقوں سے کوچ کر گئے۔

وزارت تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اساتذہ کے لیے گرانٹ کی تقسیم 2014 کی فہرستوں کے مطابق عمل میں نہیں آئی جس کا وعدہ آئینی حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر عبداللہ لملس نے کیا تھا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ ذمار صوبے میں گرانٹ سے مستفید ہونے والوں کی فہرستوں میں حوثی عناصر بالخصوص حوثی ملیشیا کے خواتین سیکٹر کی ارکان کو شامل کر دیا گیا۔ یہ لوگ حوثی ملیشیا کے لیے بطور رضاکار کام کرتے ہیں اور ان کا درس و تدریس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حوثیوں نے اصل مرد اور خواتین اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کو گرانٹ سے محروم کر دیا۔ بعد ازاں انہیں آگاہ کر دیا گیا کہ ان کے نام فہرستوں سے خارج کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے یمن میں انسانی بحران کی شدت کو کم کرنے اور یونیسف تنظیم کی مساعی کا جواب دینے کے واسطے چار ماہ سے بھی پہلے 7 کروڑ ڈالر کی مالی گرانٹ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا جو یمنی اساتذہ میں بطور مالی سپورٹ تقسیم کی جانی تھی۔